تلنگانہ کے 180 اقلیتی اقامتی اسکولوں کو کالجس میں ترقی

   


گورننگ کونسل کا اجلاس ، 10 اسکولوں میں سنٹرل فار ایکسلینس کے قیام کا فیصلہ
حیدرآباد: اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی گورننگ کونسل کا اجلاس صدرنشین و ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کی صدارت میں منعقد ہوا۔ گورننگ کونسل کے ارکان وزیر داخلہ محمود علی ، حکومت کے مشیر اے کے خاں ، سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم ، ایس ٹی اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر آر ایس پراوین کمار ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم اور سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ نے شرکت کی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے کہا کہ حکومت نے تمام طبقات کے طلبہ کو مفت معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے اقامتی اسکولوں کا جال پھیلایا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تمام طبقات کی تعلیمی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ کے ایشور نے کہا کہ تلنگانہ میں اقامتی اسکولوں کا قیام ملک بھر کے لئے ایک مثال ہے۔ اقامتی اسکولوں میں طلبہ کے بہتر مظاہرہ کے نتیجہ میں مختلف امتحانات میں نمایاں رینک حاصل ہوا ہے جس کے نتیجہ میں اقامتی اسکولوں کی نشستوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ گورننگ کونسل نے 121 اقامتی اسکولوں کو کالجس میں اپ گریڈ کرنے کے لئے قرارداد منظور کی ہے۔ قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کیلئے طلبہ کو تربیت دینے 10 اسکولوں میں سنٹر آف اکسلینس قائم کئے جائیں گے ۔ ان میں سے 5 بوائز اور 5 گرلز اسکولوں میں قائم ہوں گے ۔ عادل آباد ، ظہیر آباد ، نرمل اور نظام آباد میں تعمیر کی گئی نئی اسکول عمارتوں کا افتتاح جلد عمل میں آئے گا ۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں اور کمزور طباقت کے طلبہ کی بہتر تعلیم کے مقصد سے اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں۔ اسکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم مفت دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کیلئے طلبہ کو 20 لاکھ روپئے تک کی اسکالرشپ فراہم کی جارہی ہے ۔ اس موقع پر اقامتی اسکول سوسائٹی کی کارکردگی کی ستائش کی گئی۔ قومی سطح کے اسپورٹس مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے 10 طلبہ کو وزیر اقلیتی بہبود نے تہنیت پیش کی ۔