بلدی نظم و نسق، آبپاشی اور جی ایچ ایم سی کے خلاف زائد کیسس، چیف سکریٹری مقدمات میں سرفہرست
حیدرآباد۔6 ۔اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کے چیف سکریٹری سومیش کمار کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات کی پیروی کے لئے 58 کروڑ کی اجرائی کے تنازعہ کے درمیان اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کے تقریباً 18,000 عہدیدار توہین عدالت کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ 7 مہینوں میں چیف سکریٹری کے خلاف 53 نئے مقدمات عدالت میں دائر کئے گئے ۔ سرکاری ذرائع اور ہائی کورٹ کی ویب سائیٹ کے مطابق مختلف محکمہ جات کے 18,000 عہدیداروں کے خلاف گزشتہ چند برسوں میں توہین عدالت کی درخواستیں داخل کی گئیں۔ ان میں سے 300 مقدمات چیف سکریٹری سومیش کمار کے خلاف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 50 مقدمات اس وقت کے ہیں جب سومیش کمار گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر تھے۔ 2014-15 ء کے دوران یہ مقدمات دائر کئے گئے ۔ سومیش کمار پرنسپل سکریٹری ریونیو کمرشیل ٹیکس اور اکسائز کی زائد ذمہ داری کے علاوہ چیف کمشنر لینڈ ایڈمنسٹریشن کے زائد فرائض انجام دے رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق جن محکمہ جات کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر کی گئیں ، ان میں زیادہ تر کیسس بلدی نظم و نسق ، آبپاشی ، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور ضلع کلکٹرس سے متعلق ہیں۔ پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اروندکمار اور کلکٹر رنگا ریڈی امئے کمار کو علی الترتیب 17 اور 16 توہین عدالت کے مقدمات میں جاریہ سال فریق بنایا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے عدلیہ کے احکامات پر عمل آوری میں عہدیداروں کے تساہل پر ناراضگی جتائی ہے۔ کئی عہدیداروں کو قید اور جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی ۔