تلنگانہ کے 27 میڈیکل کالجس میں تدریسی عملہ کی قلت

   

ایم بی بی ایس سال اوّل ودوم کی تعلیم پر اثر، معیار تعلیم میں مسلسل گراوٹ
حیدرآباد۔8۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں موجود سرکاری میڈیکل کالجس کے فارغین کی صورتحال بھی کیا چند برس قبل تلنگانہ کے انجنیئرنگ کالجس سے فارغ ہونے والے انجنیئرس کی طرح ہوجائے گی! تلنگانہ میں موجود 27 سرکاری میڈیکل کالجس میں تدریسی عملہ کی قلت نے شعبہ طب کے ذمہ داروں کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر فوری طور پر تلنگانہ کے سرکاری میڈیکل کالجس میں درکار عملہ کے تقررات نہ کئے گئے تو ایسی صورت میں ایم بی بی ایس سال اول اور سال دوم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تلنگانہ ریسیڈنٹ ڈاکٹرس اسوسیشن نے ریاست کے بیشتر تمام اضلاع میں موجود میڈیکل کالجس کی ابتر صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کئی میڈیکل کالجس میں پروفیسرس موجود نہیں ہیں اور کئی شعبہ جات بغیر کسی سینیئر اکیڈیمک لیڈرشپ کے چلائے جا رہے ہیں جو کہ نیشنل میڈیکل کونسل کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور اگر نیشنل میڈیکل کونسل کی جانب سے ان کالجس کی تنقیح کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں مذکورہ میڈیکل کالجس کی مسلمہ حیثیت کو ختم کردیئے جانے کا امکان ہے۔ڈاکٹر ڈی سریناتھ صدر تلنگانہ ریسڈنٹ ڈاکٹرس اسوسیشن نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اضلاع میں موجود میڈیکل کالجس ہی نہیں بلکہ شہر حیدرآباد میں موجود سرکردہ سرکاری میڈیکل کالجس کی صورتحال بھی انتہائی ابتر ہونے لگی ہے کیونکہ سرکردہ سرکاری میڈیکل کالجس جن میں عثمانیہ میڈیکل کالج‘ گاندھی میڈیکل کالج‘ کاکتیہ میڈیکل کالج شمار کئے جاتے ہیں ان میڈیکل کالجس کے بیشتر شعبہ جات میں درکار تدریسی عملہ ہی نہیں بلکہ پروفیسرس بھی موجود نہیں ہیں۔انہو ں نے بتایاکہ ریاست تلنگانہ کے تمام میڈیکل کالجس میں مجموعی اعتبار سے 150 ایسے شعبہ جات ہیں جو کہ بغیر کسی سینیئر فیکلٹی کے چلائے جا رہے ہیں اور ان شعبہ جات کو جونیئر ڈاکٹرس اور دیگر تدریسی عملہ سنبھالے ہوئے ہے جو کہ امتحانات اور انتظامی امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔صدر تلنگانہ ریسڈنٹ ڈاکٹرس اسوسیشن نے مزید بتایا کہ پوسٹ گریجویشن کے لئے مستقل تدریسی عملہ کے علاوہ انتظامی عملہ کی شرط ہے لیکن ریاست کے کئی سرکردہ کالجس میں ایسا نہیں ہے بلکہ ریاست بھر میں 120 شعبہ جات ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی نگرانی میں چلائے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک صورتحال کا غماز ہے۔علاوہ ازیں ریاست کے تمام میڈیکل کالجس میں 70 فیصد ایسے شعبہ جات ہیں جن میں ایک پروفیسر بھی نہیں ہے اور یہ شعبہ جات بغیر کسی پروفیسر کے چلائے جا رہے ہیں۔شعبہ طب کے ماہرین کا کہناہے کہ تلنگانہ کے سرکاری میڈیکل کالجس کی یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اگر کالجس میں تدریسی عملہ اور نگران ہی موجود نہ ہوں تو ایسی صورت میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوجائیں گے اور مجموعی طور پر ریاست بھر کے سرکاری میڈیکل کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیم کے معیار پر بھی شبہات پیدا ہونے لگ جائیں گے۔بتایا جاتاہے کہ ریاست کے بیشتر نئے سرکاری میڈیکل کالجس میں حکومت کی جانب سے باضابطہ تقررات کے بجائے عارضی اور کنٹراکٹ پر خدمات حاصل کرتے ہوئے کالجس چلائے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں کالجس کے معیار تعلیم میں مسلسل گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو حالات سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔3