عملہ کی قلت کے باوجود مقدمات کی یکسوئی پر توجہ ۔ یوم جمہوریہ تقریب سے خطاب
حیدرآباد 26 جنوری ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل 95 فیصد مقدمات کی یکسوئی کردی گئی ہے اور ان مقدمات کیلئے عدالتی کاروائیوں کو تیز کرنے جو اقدامات کئے گئے وہ قابل قدر ہیں ۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس اپریش کمار سنگھ نے آج 77 ویں یوم جمہوریہ پر پرچم کشائی کے بعد ججس ‘ عدالتی عہدیداروں اور وکلاء سے خطاب میں یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں 70 فیصد عدالتی عملہ کی موجودگی کے باوجود گذشتہ برس تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع جملہ مقدمات میں 95 فیصد کی مجموعی اعتبار سے یکسوئی کردی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ سال 2025 میں جملہ 79ہزار نئے مقدمات ہائی کورٹ سے رجوع کئے گئے جن میں عملہ کی قلت کے باوجود 75ہزار419 مقدمات کی یکسوئی کے اقدامات کئے گئے ۔جسٹس اپریش کمار سنگھ نے ریاستی حکومتوں سے عدلیہ میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ و قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے شعور اجاگر کرنے کی پر زور دیا۔ انہوں نے راجندر نگر میں نئی ہائی کورٹ عمارت کی تعمیر کی سراہنا کی اور کہا کہ یہ اچھی پہل ہے۔ 77ویں یوم جمہوریہ تقاریب میںتلنگانہ ہائی کورٹ کے ججس‘ سپریم کورٹ کے سابق ججس ‘ صدرنشین بار کونسل (تلنگانہ ) اے نرسمہار یڈی ‘ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی ‘ اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جناب عمران خان‘ ٹی رجنی کانت ریڈی ‘ پبلک پراسیکیوٹر پی ناگیشور راؤ و دیگر عہدیداران موجود تھے۔ چیف جسٹس تلنگانہ نے کہا کہ دستور کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے اس سے آگہی لازمی ہے اسی لئے دستور اور قوانین کو کتابوں ‘ دستوری اداروں اور عدالتوں تک محدود رکھنے کی بجائے اسے عوام تک لے جانے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ جسٹس اپریش کمار سنگھ نے بتایا کہ دستور کی روح ہر ہندوستانی شہری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دستور کے نفاذ کے ذریعہ اپنے حقوق کا تحفظ کرے اس کیلئے لازمی ہے کہ ہر ہندوستانی شہری ملک کے دستور سے واقف ہو کر اس کے نفاذ کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے۔3