چندرا بابو نائیڈو کے ذریعہ سفارش، ٹاملناڈو سے تعلق کے سبب جنوبی ریاستوں کو ترجیح
حیدرآباد ۔ 8۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے انچارج گورنر سی پی رادھا کرشنن تلگو ریاستوں میں کسی ایک ریاست کے مستقل گورنر کے طورپر خدمات انجام دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی سے بات چیت کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ یا آندھراپردیش کے مستقل گورنر کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے رادھا کرشنن نے چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو سے مدد طلب کی ہے ۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت نے چندرا بابو نائیڈو اہم حلیف کے طور پر شامل ہیں اور وہ آندھراپردیش کے لئے سی پی رادھا کرشنن کے نام کی سفارش کرسکتے ہیں۔ رادھا کرشنن فی الحال جھارکھنڈ کے مستقل گورنر ہیں اور تلنگانہ گورنر کے علاوہ وہ لیفٹننٹ گورنر پڈوچیری کے اضافی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر سوندرا راجن کے استعفیٰ کے بعد رادھا کرشنن کو تلنگانہ اور پڈوچیری کی ذمہ داری دی گئی ۔ رادھا کرشنن نے گزشتہ دنوں گنٹور پہنچ کر چندرا بابو نائیڈو سے دو گھنٹے طویل بات چیت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ رادھا کرشنن کی اولین ترجیح تلنگانہ ہے اور تلنگانہ کی گورنرشپ نہ ملنے کی صورت میں وہ آندھراپردیش کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ رادھا کرشنن کا تعلق جنوبی ہند سے ہے اور وہ ٹاملناڈو سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا وہ جنوبی ہند کی کسی ریاست میں خدمات انجام دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ تلنگانہ کی اضافی ذمہ داری ملنے کے بعد ان کی تلگو ریاستوں سے دلچسپی میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ آندھراپردیش کے موجودہ گورنر جسٹس عبدالنذیر جو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں ، انہوں نے فروری 2023 میں گورنر کی ذمہ داری سنبھالی اور ان کی میعاد کے مزید 4 سال باقی ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے گورنر کی تبدیلی کی سفارش کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے تلنگانہ کے لئے سفارش کرنے کا رادھا کرشنن کو تیقن دیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ تین ماہ میں ملک کے تقریباً 6 ریاستوں کے گورنرس کی میعاد ختم ہورہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی سے تعلق کے باوجود رادھا کرشنن تلنگانہ حکومت کے ساتھ خوشگوار روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سابق گورنر کی جانب سے زیر التواء رکھے گئے 11 سرکاری بلز میں سے 7 کو منظوری دے کر کانگریس حکومت کی ستائش حاصل کی ہے۔ 1