تلنگانہ یونیورسٹیز کے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کا ’ مہا دھرنا ‘

   

19 اپریل سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی دھمکی
حیدرآباد۔/16 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ یونیورسٹیز میں حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کے فیصلہ کے خلاف کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس نے دھرنا چوک اندرا پارک پر آج ’ مہادھرنا ‘ منظم کیا۔ 12 سرکاری یونیورسٹیز کے سینکڑوں کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس نے اندرا پارک پر مہا دھرنا منظم کرتے ہوئے اُن کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ گورنمنٹ یونیورسٹیز کنٹراکٹ ٹیچرس اسوسی ایشن کی جائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر ریاست گیر سطح پر احتجاج جاری ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے جائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی تائید کی ہے۔ بی جے پی، بی آر ایس، سی پی آئی، سی پی ایم کے علاوہ مختلف بی سی تنظیموں نے مطالبات کی تائید کی ہے۔ گذشتہ تقریباً 10 تا 20 برسوں سے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس خدمات انجام دے رہے ہیں اور حکومت نے اُن کی خدمات کو باقاعدہ بنائے بغیر نئے تقررات کا فیصلہ کیا جس سے موجودہ کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس سے ناانصافی ہوگی۔ یونیورسٹیز کے ایڈمنسٹریٹیو بلاکس کے روبرو دھرنا منظم کرتے ہوئے وائس چانسلرس کو یادداشت پیش کی گئی۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت مطالبات قبول نہیں کرے گی تو 19 اپریل سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی جائے گی۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یونیورسٹیز کے معیار کو برقرار رکھنے والے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ جے اے سی قائدین ڈاکٹر دھرما تیجا، ڈاکٹر پرسو رام، ڈاکٹر وی کمار، ڈاکٹر اوپیندر، ڈاکٹر وجیندر ریڈی اور دوسروں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ مطالبات کی یکسوئی کے اقدامات کرے۔1