تلنگانہ یونیورسٹی کے لکچررس کا احتجاجی مظاہرہ

   

ترقی کے احکامات جاری کرنے کامطالبہ، ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عمل کی خواہش
نظام آباد ۔ 18 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن (ٹوٹا)کے صدر ڈاکٹر اے پننیا کی قیادت میں اساتذہ کااحتجاجی پروگرام یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو بلڈنگ کے روبرومنعقد کیا گیا۔ یونیورسٹی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ عدالت عالیہ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے تلنگانہ یونیورسٹی میں 2014 میں تقرر کے گئے تمام اساتذہ کو ترقی کے احکامات جاری کی جائے۔ اس موقع پر تلنگانہ یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کے ٹریژر ر (خازن) ڈاکٹر اے ناگراجو نے سیاہ بیچس پہنتے ہوئے اس احتجاجی پروگرام میں کہا کہ ایگزیکٹیو کونسل کے فیصلے کے مطابق تلنگانہ اسٹیٹ ایڈوکیٹ جنرل سے قانونی مشورہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، اور مطالبہ کیا کہ اس عمل کو جلد از جلد شروع کیا جائے۔ پانچ ماہ قبل ایڈوکیٹ جنرل نے اپنی تفصیلی رپورٹ کے ذریعے یونیورسٹی کو بتایا کہ اساتذہ کو ترقیاں دی جائیں۔ ڈاکٹر ناگراجو یونیورسٹی حکام مطالبہ کیا کہ وہ ایڈوکیٹ جنرل کی رپورٹ پر عمل درآمد کریں۔ لیکن حکام کی لاپرواہی کے باعث کئی اساتذہ نے ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے ترقی کے لیے احکامات حاصل کیے۔ ہائی کورٹ نے رجسٹرار کو توہین عدالت کے الزام میں 20 ستمبر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کا بھی حکم جاری کیا تھا ایسا نہ کرنے پر یونیورسٹی حکام کو دو ہفتوں میں پرموشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ صدر ٹوٹا ڈاکٹر اے پننیا نے مزید بتایا کہ لیکچرز نے ہائی کورٹ سے رجوع ہونے پر ہائی کورٹ نے انٹیریم ڈائریکشن دیتے ہوئے ترقی عمل کو انجام دینے کی یونیورسٹی کو احکامات جاری کیے گئے تھے اور دو ہفتوں میں اس عمل کو مکمل نہ کرنے کی صورت میں عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی پر رجسٹرار کو شخصی طور پر 20 ستمبر کو حاضر عدالت ہونے کی ہدایت دی تھی ہائی کورٹ کے فیصلے کی عدم عمل آوری پر رجسٹرار پروفیسر یادگری نے عدالتی احکامات کے وصولی کے بعد عمل کو شروع کرنے کا عدالت میں جواب داخل کیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 10 سال سے تمام لیکچرز ذہنی طور پر تناؤ میں مبتلا ہے لہذا عہدے دار وقت ضائع کیے بغیر ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے لیکچرز نے متحد طورپر قرارداد کو منظور کرتے ہوے ایڈوکیٹ جنرل ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے میں یونیورسٹی کے عہدے داروں کی لاپرواہی پر سیا بیاچس لگا کر احتجاجی پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا۔ بعد ازاں یونیورسٹی کے رجسٹرا پروفیسر یادگری کو اساتذہ کی ترقیاتی عمل بر مبنی فہرست کو بھی حوالے کیا۔ اس پروگرام میں یونیورسٹی کے ٹیچرز ایسوسی یشن (ٹوٹا) کے نائب صدور ڈاکٹر ستیا نارائنہ ریڈی، ڈاکٹر راجیشوری، سیکریٹریز ڈاکٹر بال کشن ڈاکٹر نیلما کے علاوہ دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔