تلنگانہ 4 لاکھ کروڑ کے ساتھ سنگین مالیاتی بحران میں: محمد علی شبیر

   

فلاحی اسکیمات پر 50 فیصد خرچ، سی اے جی رپورٹ میں کئی خامیوں کا انکشاف
حیدرآباد۔16۔ مارچ (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں مالیتی بے قاعدگیوں سے متعلق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (CAG) کی رپورٹ پر وضاحت کریں۔ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں حکومت کی جانب سے بجٹ کے خرچ کے سلسلہ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ سی اے جی نے مارچ 2020 کو ختم ہونے والے مالیتی سال کی آڈٹ رپورٹ پیش کی جو 15 مارچ کو ایوان میں پیش کی گئی ۔ سی اے جی نے عوامی رقومات کے بیجا استعمال کی نشاندہی کی اور کہا کہ مناسب وجہ اور اسمبلی کی منظوری کے بغیر عوامی رقومات کا خرچ کیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019-20 ء کا ریاستی حکومت کا بجٹ حقائق پر مبنی نہیں تھا اور بجٹ کی مناسب نگرانی اور خرچ میں حکومت ناکام ثابت ہوئی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقننہ کی جانب سے مطالبات زر کی عدم منظوری کے باوجود بھاری خرچ کیاگیا۔ سی اے جی نے 162 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں 8 مرتبہ حکومت کے بجٹ کو حقائق سے بعید اور غلطیوں سے پر قرار دیا۔ رپورٹ میں حکومت کو مستقبل میں خامیوں کی اصلاح کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر ریاست کی ترقی کے بارے میں جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ حکومت نے غلط اعداد و شمار کی بنیاد پر ریاست کی مجموعی ترقی کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سنگین معاشی بحران کا شکار ہے۔ بھاری سود پر قرض حاصل کرنے کے لئے مختلف اداروںکو ضمانت دی گئی ۔ ریاستی حکومت انتخابی وعدوں کے سلسلہ میں عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کیلئے مختص کردہ 50 فیصد بجٹ خرچ نہیں کیا گیا۔ کسانوں کے قرض معافی کے لئے 6225 کروڑ مختص کئے گئے لیکن صرف 213 کروڑ خرچ ہوئے ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے 5000 کروڑ کے منجملہ صرف 550 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ تعلیم اور صحت کیلئے گزشتہ پانچ برسوں میں بجٹ میں بھاری کمی کی گئی۔ 4 لاکھ کروڑ قرض کے ساتھ تلنگانہ مالیتی بحران کی ریاست بن چکی ہے۔ ر