چندرا بابو کی گرفتاری کے بعد سیاسی منصوبوں میں تبدیلی ۔ چند دنوں میں اعلان متوقع
حیدرآباد 3 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلگو دیشم اور جنا سینا پارٹی اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ میں شامل ہونے جا رہے ہیں! اداکار پون کلیان این ڈی اے سے علحدگی کے اشارے دینے لگے ہیں ۔ کہا جار ہاہے کہ آئندہ چند یوم میں وہ این ڈی سے علحدگی کا اعلان کریں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ میں 32 حلقہ جات پر مقابلہ کے اعلان کے بعد جنا سینا نے اپنے سیاسی اتحاد پر از سر نو غور کا فیصلہ کیا ہے اور تلگو دیشم سے اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے وہ قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد’انڈیا‘ کا حصہ بننے پر غور کرنے لگے ہیں۔ آندھراپردیش میں سربراہ تلگودیشم کی گرفتاری کے بعد تیزی سے تبدیل ہورہے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش جگن موہن ریڈی کے خلاف جنا سینا اور تلگودیشم کا اتحاد ان کی شکست کا سبب بن سکتا ہے لیکن ساتھ ہی تلگودیشم اور جنا سینا دونوں ہی تلنگانہ میں بھی اپنے سیاسی اثرکا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے وہ آندھراپردیش کے علاوہ تلنگانہ میں ’انڈیا‘ حلیف کے طور پر میدان میں اترنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ’انڈیا‘ میں شامل جماعتوں اور قائدین کی جانب سے دونوں جماعتوں کے موقف کے متعلق آگہی حاصل کرنے اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے اور کہا جار ہاہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں اپوزیشن ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کی منصوبہ بندی ہوگی اور اس کے تحت مستقبل کا لائحہ عمل تیار ہوگا۔ جنا سینا اور تلگودیشم اگر ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو جنوبی ریاستوں آندھراپردیش اور تلنگانہ میں اپوزیشن اتحاد کو نئی طاقت ملے گی اور آندھراپردیش میں جگن موہن ریڈی اور تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ کو شکست کی راہیں ہموار ہو گی۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں اپوزیشن اتحاد میں کوئی بھی سیاسی جماعت شامل نہ ہونے کے سبب کانگریس کو دونوں ریاستوں میں تنہا مقابلہ کرنا تھا لیکن اب جو حالات پیدا ہورہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ پون کلیان این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرکے تلگودیشم کے ساتھ ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو دونوں ریاستوں میں برسراقتدار جماعتوں کی شکست یقینی ہوجائے گی اور بی جے پی دونوں ریاستوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کے ذریعہ مخالف حکومت ووٹو ں کی تقسیم کو یقینی بنانے کے اقدامات کریگی لیکن اگر جنا سینا اور تلگودیشم ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ بن جاتے ہیں تو دونوں ریاستوں میں برسراقتدار سیاسی جماعتوں کو جس چیالنج کا مقابلہ ہوگا ان سے نمٹنا دونوں حکومتوں کیلئے آسان نہیں ہوگا۔