تلگودیشم پارٹی سیکولرازم اور مسلمانوں کی ترقی کی پابند

   

پروفیسر انور خان اور اقلیتی قائدین کی تلگودیشم میں شمولیت، چندرابابو نائیڈو کا خطاب
حیدرآباد 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طبقہ کے تعلیمی اور سماجی شعبہ جات سے وابستہ افراد نے تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ پروفیسر انور خان کی قیادت میں سابق چیف منسٹر اور صدر قومی تلگودیشم این چندرابابو نائیڈو سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت اختیار کی گئی۔ پروفیسر انور خان کے علاوہ مجاہد خان، معراج محمد خان، رضوان اللہ خان، شہباز خان، محمد جہانگیر خان، محمد مظہر، عائشہ فاطمہ، عالیہ فاطمہ، سمیہ مجاہد خان و دیگر افراد نے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی ترجمان پرکاش ریڈی کے مطابق کاروان اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین نے این چندرابابو نائیڈو سے ملاقات کی اور تلگودیشم میں شمولیت کے فیصلے سے واقف کرایا۔ چندرابابو نائیڈو نے اپنی قیامگاہ پر اقلیتی قائدین کا استقبال کیا اور اُنھیں پارٹی کا کھنڈوا پہنایا۔ اِس موقع پر چندرابابو نائیڈو نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کی ترقی کے لئے تلگودیشم حکومت کے اقدامات آج بھی برقرار ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و ضبط کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لئے تلگودیشم نے مساعی کی تھی۔ چندرابابو نائیڈو نے اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے، حج ہاؤز کی تعمیر اور دیگر بھلائی اسکیمات کے آغاز کا ذکر کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ تلگودیشم پارٹی سیکولرازم کے اُصولوں پر کاربند ہے۔ تلگودیشم تلنگانہ یونٹ کے صدر بی نرسمہلو نے کہاکہ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کا مضبوط کیڈر موجود ہے۔ اُنھوں نے اقلیتی قائدین کا پارٹی میں استقبال کیا۔ اِس موقع پر تلگودیشم کے قومی جنرل سکریٹری کے رام موہن راؤ، ریاستی نائب صدر ایس بھوپال ریڈی، ریاستی جنرل سکریٹری شیخ عارف اور دیگر قائدین موجود تھے۔ انور خان نے مارچ 2021 ء میں رنگاریڈی، حیدرآباد اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل گرائجویٹ کونسل نشست کے لئے آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کیا تھا۔ وہ تقریباً 3 دہوں تک شعبہ تدریس سے وابستہ رہے۔ اُنھوں نے لوک ستہ میں جئے پرکاش نارائن کے ساتھ پدیاترا میں حصہ لیا تھا۔ ر