تلگو ریاستوں میں آل انڈیا سرویس عہدیداروں کے الاٹمنٹ کا تنازعہ

   

ہائی کورٹ نے مرکز کو مداخلت کا مشورہ دیا، سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کے احکامات کالعدم
حیدرآباد۔/13 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں میں آل انڈیا سرویس عہدیداروں کے الاٹمنٹ کے مسئلہ پر جاری دیرینہ تنازعہ کے حل کیلئے مساعی کی ہے۔ ہائی کورٹ نے سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کے احکامات کو کالعدم کردیا جس کے تحت بعض عہدیداروں کو اپنے حقیقی الاٹمنٹ سے ہٹ کر دوسری ریاست میں خدمات انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ اس معاملہ کا جائزہ لے اور مناسب حل تلاش کرے۔ متاثرہ پارٹیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مرکز سے رجوع ہوں اور موجودہ پوسٹنگ پر برقرار رکھنے کی اپیل کریں کیونکہ 9 سال کی سرویس مکمل ہوچکی ہے اور کئی عہدیدار ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ جسٹس ابھینند کمار شاولی اور جسٹس این راجیشور راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مرکزی ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ کی جانب سے سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کے 29 مارچ 2016 کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ رِٹ پٹیشن کی سماعت کی۔ ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے آئی اے ایس عہدیداروں انجنی کمار، ابھیلاشا بھشٹ، اے وی رنگاناتھ اور 7 دیگر عہدیداروں کے علاوہ آئی اے ایس عہدیدار سی ہری کرن اور رونالڈ راس کو تلنگانہ میں خدمات انجام دینے کی اجازت دی تھی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد مذکورہ عہدیداروں کو آندھرا پردیش الاٹ کیا گیا تھا لیکن وہ سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کے احکامات کے تحت تلنگانہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ نے ٹریبونل کے احکامات منسوخ کرنے کی اپیل کی۔ طویل عرصہ سے تنازعہ کے جاری رہنے پر بنچ نے ٹریبونل کے احکامات کو کالعدم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مداخلت کرنے کا مشورہ دیا تاکہ اس مسئلہ کا ازسر نو جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کریں۔ عدالت نے کہا کہ عہدیداروں کے معاملات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے۔ سینئر وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ تلنگانہ میں نئی حکومت تشکیل پائی ہے اور ہائی کورٹ میں نمائندگی کیلئے ایڈوکیٹ جنرل کا تقرر نہیں کیا گیا جس پر بنچ نے آئندہ سماعت 2 جنوری کو مقرر کی ہے۔