حیدرآباد۔12۔مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھراپردیش کے درمیان اثاثہ جات کی تقسیم کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ آندھراپردیش حکومت کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر جواب داخل کرنے کیلئے تلنگانہ اور مرکزی حکومت کو 4 ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ شیڈول 9 اور 10 کے تحت موجود اداروں کی 1.4 لاکھ کروڑ اثاثہ جات کی تقسیم میں ناانصافی کی شکایت کرتے ہوئے آندھراپردیش حکومت نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سابق میں سپریم کورٹ نے تلنگانہ اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی تھی لیکن دونوں حکومتوں کی جانب سے کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا جس پر سپریم کورٹ نے مزید چار ہفتے کی مہلت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اثاثہ جات کی تقسیم کیلئے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں کمیٹی کی تشکیل سے متعلق آندھراپردیش حکومت کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔ آندھراپردیش حکومت کو شکایت ہے کہ تلنگانہ حکومت 142601 کروڑ کے اثاثہ جات کی تقسیم میں تاخیر کر رہی ہے ۔ تقسیم کی جانے والے 91 فیصد اثاثہ جات حیدرآباد میں ہیں۔ ریاست کی تقسیم کو 8 سال گزرنے کے باوجود اثاثہ جات کی تقسیم مکمل نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی کہ وہ اثاثہ جات کی تقسیم کیلئے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دے۔ر