دیہی علاقوں کے بہ نسبت شہری علاقوں کے عوام زیادہ متاثر ، آئی سی ایم آر کا سروے
حیدرآباد ۔ 10 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : دونوں تلگو ریاستیں ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس جیسے امراض کا بڑی تیزی سے شکار ہورہی ہیں جس کی وجہ شہر کاری ، صنعت کاری ، طرز زندگی میں تبدیلی ، کھانے پینے کی عادت دیگر وجوہات بتائی جارہی ہے ۔ جس سے لوگوں کی بڑی تعداد بی پی ، شوگر ، کولیسٹرول جیسے صحت کے مسائل سے متاثر ہورہے ہیں ۔ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 30 فیصد لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں ۔ جب کہ 9.9 فیصد لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں ۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ ( آئی سی ایم آر ) نے ملک میں ذیابیطس ، بی پی اور کولیسٹرول پر ایک سروے کیا ہے ۔ 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 20 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں پر یہ سروے کیا گیا ۔ یہ سروے آبادی ، علاقوں ، سماجی اور معاشی حیثیت کی بنیاد پر کیا گیا ۔ سروے میں ملک بھر کے 1.13 لاکھ لوگوں کا احاطہ کیا گیا ۔ 79,506 دیہی اور 33,537 شہروں کے لوگوں کا مطالعہ کیا گیا ۔ 18 اکٹوبر 2008 تا 17 دسمبر 2020 تک پانچ مرحلوں تک ریاستوں کی اساس پر متحدہ آندھرا پردیش میں کئے گئے سروے کی تازہ تفصیلات حال ہی میں لینسیٹ جریدے نے شائع کی ہے ۔ دونوں تلگو ریاستوں میں شہری علاقوں میں 30 فیصد سے زائد افراد ہائی بی پی کا شکار ہے جب کہ دیہی علاقوں میں اس کا تناسب 25 تا 30 فیصد کے درمیان ہے ۔ دونوں تلگو ریاستوں کے شہری علاقوں میں 10 فیصد سے زائد لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں جب کہ دیہی علاقوں میں اس کی تعداد 7.4 فیصد ہے ۔ اس کے علاوہ 15 فیصد لوگ پری ذیابیطس بیماری کا شکار ہیں ۔ شہری علاقوں میں اس کا تناسب 10 تا 15 فیصد ہے ۔ تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں پری ذیابیطس کا تناسب 15 فیصد اور آندھرا پردیش کے دیہی علاقوں میں 10 فیصد ہے ۔۔ ن