29 مشترکہ اجلاس بے فیض ، حیدرآباد اور نئی دہلی کے اداروں پر دعویداری
حیدرآباد۔/31 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی تقسیم کو 9 سال گذرنے کے باوجود سرکاری اداروں اور ان کے اثاثہ جات کی تقسیم کا تنازعہ برقرار ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت سرکاری اداروں، ملازمین اور اثاثہ جات کی تقسیم کیلئے رہنمایانہ خطوط وضع کئے گئے ہیں لیکن کئی اداروں کی تقسیم کے معاملہ میں دونوں جانب سے اعتراضات کے سبب کئی مسائل کی باہمی یکسوئی نہیں ہوسکی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے گذشتہ 9 برسوں میں دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کے ساتھ تقریباً 29 اجلاس منعقد کئے گئے لیکن کئی اہم مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ حیدرآباد میں واقع کئی سرکاری اداروں کی تقسیم کے سلسلہ میں دونوں ریاستوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے شیڈول 9 اور 10 کے اداروں کی تقسیم کیلئے عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن یہ کمیٹی دونوں ریاستوں کے اعتراضات کی سماعت سے قاصر ہے۔ زیادہ تر وہ ادارے جو حیدرآباد میں قائم ہیں ان کی تقسیم میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو دور حکومت میں تنازعات کی یکسوئی میں کوئی پہل نہیں ہوئی۔ جگن موہن ریڈی نے ریاست کو اداروں کے سلسلہ میں بھلے ہی نرم رویہ اختیار کیا لیکن نئی دہلی میں واقع تلنگانہ بھون کی تقسیم پر انہیں اعتراض ہے۔ گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران تقسیم کے تنازعہ پر دونوں ریاستوں کے چھ اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔ پانی کی تقسیم، آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے مسئلہ پر دونوں ریاستوں نے ایک دوسرے کے خلاف نیشنل گرین ٹریبونل میں شکایت کی ہے۔ مرکزی وزارت خارجہ نے بھی سرکاری اداروں کی تقسیم کے معاملہ میں پہل کی تھی لیکن دونوں ریاستوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکامی ہوئی۔ر