ریونت ریڈی سے نارا لوکیش کی ملاقات، تعلیم، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبہ جات پر بات چیت
حیدرآباد 23 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی اور آندھراپردیش کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نارا لوکیش نے تلگو ریاستوں کی یکساں ترقی کے لئے حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون سے اتفاق کیا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر ڈاؤس میں چندرابابو نائیڈو اور ریونت ریڈی کی ملاقات ہوئی۔ نارا لوکیش نے ریونت ریڈی کو منگل گیری شال سے تہنیت پیش کرتے ہوئے یادگاری مومنٹو حوالہ کیا۔ ریونت ریڈی نے جوابی خیرسگالی کے تحت نارا لوکیش کو تہنیت پیش کی۔ دونوں قائدین نے پڑوسی ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت ظاہر کی تاکہ مختلف شعبہ جات میں تلگو ریاستیں یکساں طور پر ترقی کرسکیں۔ تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات پر دونوں ریاستوں میں عمل کیا جارہا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں پیشرفت ہوئی ہے۔ نارا لوکیش نے تعلیمی شعبہ کے سلسلہ میں آندھراپردیش ماڈل کی تیاری سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ اُن کی حکومت فلاحی اسکیمات کو ترجیح دے رہی ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں نئی پالیسی کی تیاری کا کام جاری ہے اور تعلیم کے ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ کو اسکول اور کالجس میں متعارف کیا جارہا ہے۔ ٹاٹا گروپ کے تعاون سے انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئیز) کو اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس میں تبدیل کرنے کا کام جاری ہے۔ ریونت ریڈی نے نارا لوکیش کو تلنگانہ کے آئی ٹی آئیز کے دورہ کی دعوت دی تاکہ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام پر عمل آوری کا مشاہدہ کریں۔ ریونت ریڈی نے ملگ ضلع میں سمکا سارالما جاترا میں شرکت کی دعوت دی اور مندر کے ترقیاتی منصوبہ سے واقف کرایا۔ حکومت ترقیاتی منصوبہ پر سینکڑوں کروڑ خرچ کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پیشرو حکومتوں نے مندر کی ترقی پر توجہ نہیں دی جبکہ کانگریس حکومت بنیادی انفراسٹرکچر بالخصوص سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنارہی ہے۔ جاترا میں لاکھوں یاتریوں کی شرکت کا امکان ہے۔ اُنھوں نے نارا لوکیش کو میڈارم کی خصوصی پوجا میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں قائدین کی ملاقات کے دوران متنازعہ اُمور پر بات چیت کے بجائے تلگو ریاستوں کی یکساں ترقی کے منصوبے پر غور کیا گیا۔ دونوں قائدین کا احساس تھا کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کی دیرپا ترقی حکومتوں کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعہ ممکن ہے اور یہی عوام کے حق میں رہے گا۔ ڈاؤس میں دونوں ریاستوں کے لئے سرمایہ کاری کے معاہدات پر دونوں قائدین نے اطمینان کا اظہار کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی اور نارا لوکیش نے جاریہ آبی تنازعہ کے خوشگوار حل کے لئے پیشرفت سے اتفاق کیا ہے۔ دونوں قائدین نے ایک دوسرے کے آبپاشی پراجکٹس میں رکاوٹ بننے کے بجائے پراجکٹس کی تکمیل میں تعاون سے اتفاق کیا۔1