تلنگانہ میں تلگودیشم کی جلد تنظیم جدید، عوام کی بھلائی اور ریاستوں کی ترقی اولین ترجیح، پارٹی کارکنوں سے چندرا بابو نائیڈو کا خطاب
حیدرآباد۔/7 جولائی ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش ان کی دو آنکھیں ہیں اور وہ دونوں ریاستوں کی ہمہ جہتی ترقی کے خواہشمند ہیں۔ نائیڈو نے تلنگانہ میں تلگودیشم کی عنقریب تنظیم جدید کا اعلان کرتے ہوئے پیش قیاسی کی کہ تلگودیشم تلنگانہ میں اپنی عظمت رفتہ بحال کرے گی۔ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد چندرا بابو نائیڈو پہلی مرتبہ آج این ٹی آر ٹرسٹ بھون پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ تلنگانہ قائدین و کارکنوں سے خطاب میں نائیڈو نے کہا کہ تلنگانہ میں پارٹی کی طاقت برقرار ہے اور وہ نوجوانوں کو پارٹی میں اہم ذمہ دے کر جلد تنظیم جدید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قائدین پارٹی چھوڑنے کے باوجود لاکھوں کارکن موجود ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پارٹی اپنی عظمت رفتہ بحال کریگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قائدین اور کارکنوں نے آندھرا پردیش میں تلگودیشم کی کامیابی میں اپنا حصہ ادا کیا ہے جس کیلئے وہ شکر گذار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی این ٹی راما راؤ نے تلنگانہ کی سرزمین پر تلگودیشم قائم کی تھی اور اس سرزمین پر پارٹی کا احیاء عمل میں آئیگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاست کو اقتدار کیلئے استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ سیاست کو تلگو سماج سے ناانصافیوں کے خاتمہ کیلئے استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی تلنگانہ میں طاقت برقرار ہے اور وہ اپنا وقار بحال کریگی۔ نائیڈو نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے کئی مسائل ہیں جن کی وہ بات چیت کے ذریعہ یکسوئی چاہتے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی سے ملاقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ملاقات کیلئے ان کی پہل کو ریونت ریڈی نے قبول کیا اور بات چیت ثمرآور رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے عوام دو بھائی ہیں جن کی عارضی علحدگی ہوئی ہے۔ عوام کی بھلائی اور دونوں ریاستوں کے مفادات کی تکمیل میری ترجیح رہے گی۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ مسائل کا حل بات چیت سے ممکن ہے نہ کہ لڑائی سے۔ تصادم سے دونوں ریاستوں کے عوام کا نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے مسائل کا حل بات چیت سے تلاش کیا جائیگا۔ شہر کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ 1995 میں انہوں نے ہائی ٹیک سٹی کی تعمیر سے شہر کی ترقی کا آغاز کیا تھا اور آج حیدرآباد ملک کا نمبر ون شہر بن چکا ہے۔ آوٹر رنگ روڈ، انٹرنیشنل ایرپورٹ اور نالج ہب یہ تمام تلگودیشم کے کارنامے ہیں۔ کانگریس اور بی آر ایس حکومتوں نے ترقی کو برقرار رکھا اور ریونت ریڈی حکومت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں میں نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن دونوں تلگو ریاستیں عوام کی بھلائی کیلئے متحدہ کام کریں گی۔ انہوں نے سابق جگن حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بغیر کسی وجہ انہیں جیل میں بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جگن حکومت میں آندھرا پردیش کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ نائیڈو نے کہا کہ عوام غرور اور تکبر کو پسند نہیں کرتے اور وائی ایس آر کانگریس کے غرور کو عوام نے مسترد کردیا۔ میں نے اپنے وزراء سے کہا ہے کہ وہ ہوا میں نہیں بلکہ زمین پر رہیں اور خود کو عوام کا خدمت گذار تصور کریں۔1