تمام شعبوں پر معاشی انحطاط کے منفی اثرات

   

رئیل اسٹیٹ شعبہ ابتر ، رہائشی پراجکٹس متاثر ، رپورٹ میں حیرت ناک انکشافات
حیدرآباد۔17اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک کے تمام شعبوں پر معاشی انحطاط کے منفی اثرات پائے جارہے ہیں مالی سال 2019-20 کے دوسرے سہ ماہی کے دوران رئیل اسٹیٹ شعبہ کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور ملک کی جملہ رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے پراجکٹس کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ مالی سال کے دوسرے سہ ماہی کے اعتبار سے جاریہ سال نئے رہائشی پراجکٹس میں 45 فیصد کی مجموعی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ ملک میں 10 برسوں کے دوران سب سے بڑی گراوٹ شمار کی جا رہی ہے ۔ رئیل انسائیٹ اور پاپ ٹائیگر کی جانب سے جاری کردہ سروے رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندستان میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ انتہائی ابتر صورتحال کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں خریداری کے رجحان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سرمایہ کاری کے سلسلہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کو ترجیح دی جا رہی ہے لیکن بڑی کمپنیوں کی جانب سے نئے پراجکٹس کے آغاز سے احتیاط کیا جا رہاہے۔جولائی تا ستمبر کی مدت کے دوران جہاں گذشتہ مالی سال کے اعتبار سے 45 فیصد نئے پراجکٹس کے آغاز میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے وہیں جاریہ مالی سال کے دوسرے سہ ماہی میں مکانات کی فروخت میں 25 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ہندستان کے بیشتر تمام بڑے شہروں میں صورتحال انتہائی ابتر ہے اور اس صورتحال سے رئیل اسٹیٹ تجارت کرنے والی کمپنیوں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کو ہونے والے بھاری نقصانات کے متعلق ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ اس کے بالواسطہ اثرات بینکوں پر مرتب ہوں گے کیونکہ بینکوں سے بھاری قرض حاصل کرنے والوں میں رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کی بڑی تعداد ہے۔شہر حیدرآباد میں گذشتہ برس ان ایام کے دوران یعنی جولائی تا ستمبر 2018 میں 6783 مکانات اور فلیٹس کی فروخت عمل میں آئی تھی لیکن اس برس اسی مدت میں صرف 6141 مکانات و فلیٹ فروخت کئے جاسکے ہیں اسی طرح ممبئی ‘ بنگلورو‘ گروگرام‘احمدآباد اور پونے کی بھی صورتحال ہے جہاں نہ صرف تعمیراتی سرگرمیو ںمیں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے بلکہ جائیدادوں کی فروخت میں بھی بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے منفی اثرات ہندستانی معیشت اور عام آدمی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔