تمام طلبہ کو پروموٹ کرنے حکومت کے احکام ، لیکن خانگی اسکولس کا امتحانات کے لیے اصرار

   

حیدرآباد :۔ ریاستی حکومت کچھ کہتی ہے لیکن خانگی اسکولس انتظامیہ کچھ کہتا ہے کی ایک مثال میں خیریت آباد میں کئی خانگی اسکولس جس میں طلبہ کی تعداد 95 ہزار سے زائد ہے ۔ طلبہ کو اونچی کلاسیس میں پروموٹ کرنے کے لیے امتحانات منعقد کررہے ہیں ۔ دراصل ، ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست میں کوویڈ صورتحال کے پیش نظر امتحانات کے بغیر تمام طلبہ بشمول ایس ایس سی کے طلبہ کو بھی پروموٹ کیا جارہا ہے ۔ یہ خانگی اسکولس جنہوں نے حکومت کے قواعد پر عمل کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن بعد میں انہیں نظر انداز کردیا ۔ خیریت آباد کے علاقہ میں 17 گورنمنٹ ہائی اسکولس ، 50 پرائمری اسکولس اور 190 سے زائد خانگی اسکولس ہیں۔ جن میں 95,913 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ یہ اسکولس یوسف گوڑہ ، وینگل راؤ نگر ، بورا بنڈہ ، رحمت نگر اور ایرا گڈہ ڈیویژنس میں واقع ہیں ۔ ریاستی حکومت نے حال میں احکام جاری کرتے ہوئے کلاس I تا IX طلبہ کو پروموٹ اور ایس ایس سی کے تمام طلبہ کو بھی پروموٹ قرار دیا کیوں کہ کورونا وبا کے باعث امتحانات منعقد کرنا قابل عمل نہیں ہے ۔ حکومت کی جانب سے تمام طلبہ کو پروموٹ کیے جانے پر طلبہ اور اولیائے طلباء نے راحت کی سانس لی ہے اور ان کے بچوں کو کورونا کے خطرہ سے بچانے کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ لیکن خانگی اسکولس کے مینجمنٹس کا موقف الگ ہے ۔ مذکورہ بالا ڈیویژنس میں بعض خانگی اسکولس میں تمام کلاسیس کے لیے امتحانات منعقد کئے جارہے ہیں ۔ سوائے ایس ایس سی کے جس کی وجہ طلبہ اور اولیائے طلباء دنگ ہیں ۔ چھوٹی کلاسیس کے امتحانات ہوسکتے ہیں اور ہائی اسکول کلاسیس کے لیے امتحانات جاری ہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے طلبہ کو پروموٹ کرتے ہوئے جاری کئے گئے احکام کے باوجود خانگی اسکولس کی جانب سے امتحانات منعقد کرنے پر اولیائے طلبہ نے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔۔