اسلام آباد، 21 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے اب تک بغیر کسی خوف اور امتیاز کے تمام فیصلے لئے یا کئے ہیں۔کھوسہ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا‘‘میرے فیصلوں کے نتائج یا رائے اہم نہیں ہیں’’۔ انہوں نے کہا‘‘میں نے ہمیشہ وہی کیا جو لگا کہ صحیح ہے ’’۔انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے خصوصی عدالت نے غداری کیس میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے خلاف اپنا فیصلہ سنائے جانے کے بعد ان کے اور عدلیہ کے خلاف ڈرانے والی مہم شروع کی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد کی قیادت والی خصوصی عدالت کے تین رکنی بنچ نے سابق فوجی آمر کو 2-1 کے ووٹ سے سزائے موت کی سزا سنائی۔ عدالت نے تین نومبر، 2007 کو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کو غداری کا مجرم پایا۔ فیصلہ میں پیراگراف 66 کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے مشرف کو گرفتار کرنے اور اگر وہ مردہ پایا جاتا ہے تو اس کی لاش کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر تین دنوں تک لٹکانے کا التزام ہے ۔صحافیوں سے بات چیت میں مسٹر کھوسہ نے کہا کہ جج کوپتھر دل نہیں شیر دل ہونا چاہئے ۔ انہوں نے مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کی حمایت کی۔مسٹر کھوسہ پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے مشرف کے غداری کیس پر غیر مناسب اثر ڈالا ہے ۔ اس پر مسٹر کھوسہ نے کہا‘‘مجھے امید ہے کہ اس بارے میں حقیقت سامنے آئے گی‘‘۔
