نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج چہارشنبہ کو تمام مذاہب میں طلاق کے یکساں نظام کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بچے کو گود لینے، تمام مذاہب کے لیے یکساں وصیت کے اصول جیسے دفعات بنانے کے مطالبے کی سماعت سے بھی انکار کردیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ ’قانون بنانا یا اس میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ ہم یہ حکم نہیں دے سکتے۔سپریم کورٹ نے مسلم معاشرے میں رائج طلاق حسن کے رواج کو چیلنج کرنے والی درخواست کو الگ کردیا۔ طلاق حسن کی متاثرہ بے نظیر کی درخواست کی سماعت الگ سے ہوگی۔ اس نظام میں شوہر 1-1 ماہ کے وقفے سے تین بار طلاق اس رشتے کو ختم کرسکتا ہے۔