تمباکو فروخت پر لائسنس لازمی شرط ، این ایل ایس رپورٹ

   


حیدرآباد :۔ نیشنل لا اسکول کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمباکو اشیاء کی فروخت کے لیے تمام ریٹیلرس اور ہول سیلرس کے پاس لائسنس ہونا چاہئے اور ان کے لیے سال میں لائسنس کی تجدید کے لیے ایک پرویژن ہونا چاہئے ۔ اس رپورٹ میں ایک ماڈل لیگل فریم ورک کی سفارش کی گئی جس کے ذریعہ سگریٹس ، بیڑی اور چبانے والے تمباکو اشیاء کی فروخت کرنے والے وینڈرس کو لائسنس دینے سے ٹوباکو کنٹرول لا کو موثر انداز میں لاگو کرنے کی بھی راہ ہموار ہوگی ۔ نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (NLSIU) کی جانب سے جاری اس رپورٹ میں ہندوستان میں مختلف ریاستوں اور شہروں کی جانب سے اختیار کئے گئے وینڈر لائسیننگ کے طریقہ کار اور عمل کا تجزیہ کیا گیا ۔ ہندوستان میں تمباکو کا استعمال کرنے والوں کی تعداد دنیا میں دوسری بڑی تعداد ( 268 ملین ) ہے ۔ جہاں ہر سال کم از کم 1.2 ملین لوگ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے امراض سے فوت ہوتے ہیں ۔ ایک ملین اموات سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور 35,000 سے زائد اموات تمباکو کا دوسرے طریقوں سے استعمال کرنے سے ہوتی ہیں ۔ اشوک آر پاٹل ، پروفیسر آف لا ریسرچ ہیڈ ، این ایل ایس آئی یو چیر آن کنزیومر لا اینڈ پرئیکٹس ، بنگلورو نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ان سفارشات پر غور کرے گی تاکہ ہندوستانیوں بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو ان مہلک اشیاء سے محفوظ رکھا جاسکے ‘ ۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اس کے لیے آتھرائزیشن میں ایک شرط کو شامل کرنا مناسب اور بہتر ہوگا کہ تمباکو اشیاء کی فروخت کے لیے جن شاپس کو اجازت دی گئی ہو وہ غیر تمباکو اشیاء فروخت نہیں کرسکتے جیسے ٹافیز ، کینڈیز وغیرہ ۔۔