چینائی : تمل ناڈو کے مدورئی ریلوے اسٹیشن پر آج صبح ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا جس میں کم از کم 10 مسافروں کی موت ہو گئی۔ دراصل مدورئی ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین کے ڈبہ میں ہفتہ کی علی الصبح آگ لگ گئی جس میں نہ صرف 10 لوگوں کی موت ہو گئی، بلکہ 20 دیگر مسافر زخمی بھی ہوئے جنھیں فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس درمیان مہلوکین کے کنبوں کو 10۔10 لاکھ روپے معاوضہ کی رقم دینے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ریلوے نے ناجائز طریقہ سے لے جائے گئے گیس سلنڈر کو حادثہ کی وجہ بتایا ہے۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جس ڈبے میں آگ لگی وہ ایک پرائیویٹ پارٹی کوچ تھا، یعنی کسی شخص کے ذریعہ بک کرایا گیا پورا ڈبہ تھا۔ اس میں سوار مسافر اتر پردیش کے لکھنؤ سے مدورئی پہنچے تھے۔ اچانک اس ڈبے میں سلنڈر دھماکہ ہوا اور پھر ایک افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ریلوے اہلکاروں کے علاوہ پولیس، فائر بریگیڈ اور بچاؤ اہلکاروں نے ڈبے سیلاشوں کو باہر نکالا۔ ابتدائی جانکاری میں بتایا جا رہا ہے کہ ٹرین رامیشورم جا رہی تھی۔ اس کا نام پونالور مدورئی ایکسپریس ہے۔ آگ لگنے کی خبر صبح تقریباً 5.15 بجے ملی۔ اس وقت ٹرین مدورئی یارڈ جنکشن پر رکی ہوئی تھی۔ صبح 7.15 بجے آگ کی لپٹوں پر قابو پا لیا گیا۔ دیگر ڈبوں کو اس آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایک پرائیویٹ پارٹی کوچ تھا جسے 25 اگست کو ناگرکووِل جنکشن پر ٹرین نمبر 16730 (پانولور۔مدورئی ایکسپریس) میں جوڑا گیا تھا۔ ڈبے کو الگ کر مدورئی ریلوے اسٹیشن پر کھڑا کیا گیا تھا۔ اس ڈبے میں مسافر ناجائز طریقہ سے گیس سلنڈر لے کر آئے تھے، اسی وجہ سے آگ لگی۔ آگ لگنے کی خبر ملنے پر کئی مسافر کوچ سے باہر نکل گئے۔ کچھ مسافر پلیٹ فارم پر ہی اتر گئے تھے۔