محمد ریحان
غزہ میں اسرائیل، فلسطینیوں کی نسل کشی، اُن کی نسلی تطہیر اور قتل عام کیلئے اب ’بھوک‘ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ نتیجہ میں اب تک 266 فلسطینی بشمول 122 بچوں نے بھوک کے باعث جام شہادت نوش کیا ہے۔ ویسے بھی 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 62,064 فلسطینی شہید اور 1,56,573 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں بچوں اور خواتین کی اکثریت ہے تاہم عالمی سطح پر کام کرنے والے حقوق انسانی کے جہدکاروں اور ماہرین کا دعویٰ ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء سے تاحال 2 لاکھ سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق کم از کم 11,000 فلسطینی تباہ شدہ مکانات اور دیگر عمارتوں کے ملبے تلے دیئے ہوئے ہیں اور جہاں تک شہید بچوں کا سوال ہے، اگر شہداء کی جملہ تعداد 62,064 ہی تسلیم کرلی جائے تو ان میں صرف 28,980 بچے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہم یوں ہی نہیں پیش کررہے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل کی فلسطینیوں خاص کر فلسطینی بچوں سے دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ یومیہ اوسطاً 28 فلسطینی بچوں کو قتل کررہا ہے۔ یونیسیف نے حال ہی میں ’ایکس‘ پر اسرائیلی دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو بے نقاب کرنے والا ایک بیان پوسٹ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مسلسل بمباری، ناقص غذا، بھوک و افلاس، امداد اور اہم خدمات بشمول ادویات کے فقدان کے نتیجہ میں فلسطینی بچے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی ظلم کا شکار فلسطینیوں کو پینے کے صاف پانی، خوراک، ادویات اور تحفظ کی سخت ضرورت ہے اور ان سب سے زیادہ جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ خود اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے غزہ کو ’فلسطینی بچوں کا قبرستان‘ قرار دیا ہے۔ ایک غیرسرکاری تنظیم سیودی چلڈرن کے ریجنل ڈائریکٹر نے کچھ عرصہ قبل ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ غزہ بچوں کا قبرستان بن گیا ہے۔ بچوں کو بھوک کے ذریعہ قتل کیا جارہا ہے۔ غزہ میں اگر دیکھا جائے تو ہر دن کم از کم 600 امدادی ٹرکس کی ضرورت ہے لیکن افسوس کے صرف 86 ٹرکس کے داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسرائیل جس طرح فلسطینی بچوں کا دشمن اور ان کا قاتل بنا ہوا ہے، اسی طرح ’الجزیرہ‘ کے صحافیوں کا بھی دشمن بنا ہوا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ الجزیرہ جیسا میڈیا ہاؤز اس کی درندگی، انسانیت کے خلاف اس کے بدترین جرائم اور دہشت گردی کو بے نقاب کرے چنانچہ کچھ دن قبل اس نے کھانے کے دانے دانے اور قطرہ قطرہ کیلئے تڑپتے اپنی جان ، اللہ رب العزت کے حوالے کرنے والے فلسطینیوں کی آواز دنیا تک پہنچا کر اس کے ضمیر کو جگانے، انسانیت کے مردہ جسم میں انسانیت کے تئیں جذبہ احساس پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف الجزیرہ کے کرسپانڈنٹ محمد قریقع (ان کی عمر صرف 23 سال تھی)، کیمرہ آپریٹر ابراہیم ظاہر (25 سال عمر)، 23 سالہ مومن علیوۃ اور محمد نوفل کو بڑی بیدردی کے ساتھ قتل کیا۔ اس طرح ان چاروں نے اپنے نام بھی اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے صحافیوں کی فہرست میں شامل کروالئے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023ء سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 186 صحافی شہید ہوئے تاہم میڈیا کی مختلف رپورٹس میں بتایا گیا کہ اس مدت کے دوران 270 صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو اسرائیل نے مختلف حملوں کے ذریعہ نشانہ بناکر شہید کیا۔ دوسری طرف یہ کہا گیا کہ غزہ سیول ڈیفنس کے 37 ارکان، 1,68,000 پری یونیورسٹی طلبہ زائد از 900 ایجوکیشن اسٹاف اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی درندگی اس کی انسانیت دشمنی فلسطینیوں سے اس کی ازلی عداوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے خاص طور پر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی فلسطینی مجاہد پیدا نہ ہو، تاہم یہ اس کی اور اس کے حامی ملکوں کی خام خیالی ہے۔ انہیں اندازہ نہیں کہ فلسطین وہ ارض مقدس ہے جہاں جہاد و شہادت کے خواہاں پاکیزہ روحوں کی تخم ریزی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین پر اللہ کی راہ میں جان، مال، آل اولاد قربان کرنے کیلئے لوگ ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اسرائیل اور اس کے حامی ملکوں و حکومتوں کو یہ اچھی طرح اندازہ ہے کہ دنیا کے 195 ملکوں میں (193 ممالک اقوام متحدہ کے رکن ممالک ہیں جبکہ دو مبصر ملکوں ؍ ریاستوں میں فلسطین اور وٹیکن سٹی ہیں)۔ 57 اسلامی اور عرب ملک ہیں۔ دنیا کی جملہ 8.241 ارب آبادی میں تقریباً 26% آبادی (تقریباً 2.142 ارب نفوس) مسلم ہے۔ ان میں سے چند ایک ملک ہی ان کی تائید وحمایت کررہے ہیں۔ اس کے باوجود فلسطینی بچہ بچہ ان ملکوں پر نہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔ یہ فلسطینی، اسلامی دنیا تک یہ پیام پہنچا چکے ہیں کہ تم نے ہم فلسطینیوں کو ایک خونخوار درندے کے سامنے چھوڑ کر ہمیں بالکل نظرانداز کردیا ہے۔ اس کی شکایت ہم اپنے رب سے کریں گے۔ آج اگر ہمیں شہید کیا جارہا ہے تو کل تمہاری بربادی ہوگی۔ عراق، افغانستان، صومالیہ، یمن، جنوبی سوڈان میں بھی لاکھوں مسلمانوں کے قتل پر تم نے خاموشی اختیار کی تھی، بے حسی و بے بسی کا مظاہرہ کیا تھا، اب غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر بھی تمہاری ہمدردیاں صرف بیان بازی تک محدود ہیں۔ اگر ہم فلسطینی بچوں پر اسرائیلی مظالم کی بات کرتے ہیں تو یقینا ہماری آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔ فلسطینی بچوں نے ایسے خطرناک مناظر دیکھے ہیں، جسے دیکھنے کے بعد شاید کوئی حساس انسان زندگی میں مسکرانا بھول جائے۔ اسرائیل نے 1040 دنوں کے دوران غزہ پر ایک ٹن یا 2 ٹن نہیں بلکہ تقریباً 1.5 لاکھ ٹن بموں کی بارش کی، حد تو یہ ہے کہ وہ شہداء کی قبور پر بمباری کرتے ہوئے شہداء کو دوبارہ شہید کررہا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں جہاں ہزاروں لاکھوں فلسطینی شہید اور زخمی ہورہے ہیں، وہیں فلسطینی بچے اپنے ماں باپ سے محروم ہوکر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ وہ اس قدر صدمہ میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے چہروں پر اُداسی نمایاں ہے۔ وہ اس قدر غم و اندوہ کا شکار ہوگئے کہ آنکھوں میں آنسو بھی خشک ہوگئے ہیں۔ بھوک و پیاس نے انہیں ہڈیوں کے ڈھانچوں میں تبدیل کردیا ہے۔ ایسے بے شمار بچے ہیں، جن کی دردناک کہانیوں کے باوجود عالمی برادری کا مردہ ضمیر جاگنے سے قاصر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انسانیت دَم توڑ چکی ہے، لیکن اس بات پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بشمول عالمی برادری صرف فلسطینیوں کے قتل عام اور ان پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جارہے ناقابل تصور مظالم و جرائم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ روس۔ یوکرین جنگ کے معاملے میں ان کا موقف بالکل متضاد ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکی حکومت کے برعکس امریکی عوام کی اکثریت اور یوروپی عوام کی اکثریت، فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کی مذمت میں آواز اٹھا رہی ہے اور اپنی ہی انسانیت دوستی کا ثبوت دے رہی ہے۔ قارئین ہم آپ کو ان چند فلسطینی بچوں کے بارے میں بتارہے ہیں جو اسرائیلی جرائم کا بدترین شکار بنے ہیں۔