تمہارے مسلم دوست کیوں ہیں ؟ ۔ گرفتار سماجی جہد کار سے یو پی پولیس کا سوال

,

   

Ferty9 Clinic

میری بیوی کو جسم فروشی کیلئے مجبور کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ ضمانت پر رہائی کے بعد رابن ورما کا بیان

لکھنو 14 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک سماجی جہد کار رابن ورما نے ‘ جسے پولیس نے یو پی میں مخالف سی اے اے احتجاج کے دوران گرفتار کیا تھا ‘ الزام عائد کیا کہ پولیس نے جیل میں اسے ایذا دی ہے اور اس کے خاندان کو دھمکایا ہے ۔ رابن ورما نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اس سے سوال کیا کہ وہ ہندو ہونے کے باوجود مسلمانوں سے دوستی کیوں رکھتا ہے ؟ ۔ رابن ورما کو ’ دی ہندو ‘ کے صحافی عمر رشید کے ساتھ 20 ڈسمبر کو ایک ریسٹورنٹ سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ صحافی کو چیف منسٹر کے علم میں یہ بات آنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا ۔ رابن ورما کا کہنا ہے کہ اس کو جیل میں ایذا دی گئی ۔ اس کے خاندان کو دھمکایا گیا ۔ جہد کا کا کہنا ہے کہ پولیس اس سے بارہا سوال کر رہی تھی کہ وہ مسلمانوں سے دوستی کیوں رکھتا ہے ۔ وہ ہندو ہے اور مسلمانوں کا دوست کیوں ہے ؟ ۔ رابن ورما کی گذشتہ ہفتے ضمانت منظور ہوگئی تھی اور منگل کو لکھنو جیل سے اس کی رہائی عمل میں آئی ہے ۔ ورما نے کہا کہ پولیس نے اپنی تحویل میں بھی اس کو اذیت دی ہے اور اس کی توہین کی گئی ہے ۔ ورما نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اس کی شریک حیات اور دو سالہ لڑکی کو جسم فروشی کیلئے مجبور کردینے کی دھمکی دی ہے ۔ ورما نے بتایا کہ اس کے ایک مسلم شاگرد نے سالگرہ پر اسے مبارکباد دی تھی ۔‘ پولیس نے یہ پیام دیکھا ۔ مجھ سے سوال کیا کہ میں اسے کیوں جانتا ہوں۔ میری فون لسٹ میں مسلم نام کیوں ہیں۔ میں کیوں مسلمانوں سے دوستی رکھتا ہوں۔ ورمای نے الزام عائد کیا کہ حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں اسے مارپیٹ کی گئی ۔ تھپڑ مارے گئے ۔ چمڑے سے پیٹا گیا اور لاٹھیاں برسائی گئیں۔ کہا گیا ہے کہ رابن ورما کا نام پہلے ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا تاہم بعد میں اس پر فساد برپا کرنے ‘ اقدام قتل ‘ مجرمانہ سازش جیسے الزامات میں ماخوذ کیا گیا ۔