تنخواہوں اوروظیفہ میں کٹوتی

   

تلنگانہ حکومت کے خصوصی قانون کی بی جے پی نے نکتہ چینی کی
حیدرآباد17جون(یواین آئی) تلنگانہ بی جے پی یونٹ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی کٹوتی کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ خصوصی آرڈیننس پر تلنگانہ حکومت پر نکتہ چینی کی۔بی جے پی نے اسے مخالف ملازمین آرڈیننس قرار دیا۔زون ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن کونسل این رامچندرراو نے اس آرڈیننس سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ آرڈیننس ریاستی سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں کوہراساں کرنے کے مترادف ہے ۔ریاستی حکومت نے منگل کی شب آرڈیننس جاری کرتے ہوئے کورونا وبا کا حوالہ دیا جو اس کو اس کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سے روکتی ہے ۔بی جے پی لیڈر نے کہا کہ نئے آرڈیننس سے ریاستی سرکاری ملازمین بشمول اساتذہ اور وظیفہ یابوں کے ذہنی تناو میں اضافہ ہوگا جو لاک ڈاون کی وجہ سے پہلے ہی کم تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔تلنگانہ آرڈیننس 2 ریاست میں کسی بھی قسم کی آفات سماوی یا صحت عامہ کے ہنگامہ حالات میں کسی بھی ادارہ،ملازم،وظیفہ یاب یا کسی بھی فرد کو تنخواہ یا وظیفہ کی ادائیگی کو موخر کرنے کا خصوصی اختیار رکھتا ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ یونین کے نام نہاد لیڈروں نے وزیراعلی کے ساتھ ساز باز کی ہے ،انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کے ملازمین بشمول اساتذہ اور وظیفہ یاب اس مخالف ملازمین آرڈیننس کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنی آوازبلند کرنے کے لئے تیار ہیں۔