محکمہ فینانس خسارہ کی پابجائی کیلئے متحرک،جاریہ ماہ سہ رکنی کمیٹی کی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی
حیدرآباد۔کے سی آر حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرس کیلئے تنخواہوں میں اضافہ اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری محکمہ جات میں 50,000 مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کو پے ریویژن کمیشن نے اپنی سفارشات پیش کردی ہیں جس کا جائزہ لینے کیلئے چیف سکریٹری سومیش کمار کی قیادت میں 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ پرنسپل سکریٹری فینانس رام کرشنا راؤ اور پرنسپل سکریٹری آبپاشی رجت کمار کمیٹی کے ارکان ہیں۔ یہ کمیٹی جاریہ ماہ کے اختتام تک پے ریویژن کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔ چیف منسٹر نے پی آر سی پر فبروری میں عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک طرف حکومت تنخواہوں میں اضافہ اور نئے تقررات کا اعلان کرچکی ہے تو دوسری طرف محکمہ فینانس کے عہدیدار سرکاری خزانہ پر پڑنے والے اضافی بوجھ کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے فیصلوں سے سرکاری خزانہ پر بھاری بوجھ عائد ہوسکتا ہے۔ تنخواہوں میں 60 فیصد سے زائد اضافہ کیلئے ملازمین کی تنظمیں مانگ کررہی ہیں لیکن پی آر سی ذرائع کے مطابق اگر 40 فیصد بھی اضافہ کیا جائے تو سرکاری خزانہ پر سالانہ 15 تا 20 ہزار کروڑ کا اضافی بوجھ عائد ہوگا۔ ریاست کی معاشی صورتحال پہلے ہی کافی کمزور ہے اور حکومت مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرتے ہوئے پراجکٹس کی تکمیل کررہی ہے۔ پی آر سی پر عمل آوری کی صورت میں سرکاری خزانہ پر پڑنے والے بوجھ سے نمٹنے کیلئے حکومت کو آمدنی میں اضافہ کے وسائل تلاش کرنے پڑیں گے۔ ایسے میں عوام پر ٹیکسوں کا زائد بوجھ واحد متبادل رہ جاتا ہے۔ عہدیدار اس بات پر فکرمند ہیں کہ تنخواہوں میں اضافہ اور نئے تقررات پر عمل آوری کیلئے کس مد سے رقم خرچ کی جائے گی۔ 9.3 لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے علاوہ مختلف کارپوریشنوں اور عارضی ملازمین کے تمام زمرہ جات کیلئے تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر 50 ہزار تقررات کئے جاتے ہیں تو 10 ہزار کروڑ کا اضافی بوجھ ہوسکتا ہے۔ 2020-21 میں ریاست کا بجٹ 1.82 لاکھ کروڑ تھا۔ 2020-21 میں حکومت کو ایکسائیز ڈیوٹی سے 16000 کروڑ کی آمدنی کی امید ہے جبکہ 2019-20 میں اسٹامپ ڈیوٹی سے 10000 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔ حکومت دونوں شعبوں میں زائد آمدنی کے بارے میں پُرامید ہے۔ کمرشیل ٹیکسیس، ایکسائیز اور اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن محکمہ جات کو ہدایت دی گئی ہے کہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے مالیاتی سال کے آخری سہ ماہی میں زائد آمدنی کے حصول کو یقینی بنائیں۔ اسی دوران بعض گوشوں کی جانب سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حکومت پی آر سی پر عمل آوری کے فیصلہ کو موخر کرسکتی ہے۔