ریاستی وزیر جنگلات کی درازی عمر کے باوجود شہرت کے ساتھ صحت بھی برقرار، نمائندہ سیاست کو انٹرویو
نرمل: (سید جلیل ازہر) سیاسی قائد کسی بھی قوم کا ہو، کسی بھی شہر کا ہو کسی بھی صدی کا ہو اس کی اپنی اہمیت ہوتی ہے اور جب یہ کسی فلاحی کام کی افتتاحی تقریب یا کسی جلسہ میں شرکت کے لیے نکلتا ہے تو اسے دیکھنے اور ملنے کے لیے بچے بڑے سب بے چین ہوجاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ منزلوں پر پہنچنا کمال نہیں منزلوں پر ٹھہرنا کمال ہوتا ہے۔ مقبولیت اور شہرت کے ساتھ ساتھ اس دور میں ایک عمر تک صحت مند ہونا بھی کمال ہے۔ تمام خوبیوں کے خوش نصیب سیاسی رہنما موجودہ ریاستی وزیر جنگلات اے اندرا کرن ریڈی ہے جنہوں نے ایک دیہات میں اے نارائن ریڈی کسان کے گھر 16 فروری 1949 ء میں آنکھ کھولی موضع یلاپلی جو نرمل سے صرف پانچ کیلو میٹر پر واقع ہے اے نارائن ریڈی زمیندار کے گھرانوں نے آنکھ کھولی۔ ضلع نظام آباد سے اے اندرا کرن ریڈی نے گراجویشن کیا اور عثمانیہ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی شخصیت کو تحریر شکل دینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ دو دن قبل ایک شادی کی تقریب میں وزیر جنگلات اے اندرا کرن ریڈی سے میری ملاقات ہوئی۔ وزیر موصوف خوشگوار موڈ میں تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ میری اطلاع کے مطابق جاریہ سال فروری میں اپنی زندگی کی 72 بہاریں دیکھ چکے اور آج بھی آپ کی صحت کو دیکھ کر کوئی بھی اندازہ نہیں کرپاتا کہ آپ 73 ویں سال میں داخل ہوگئے۔ جبکہ خدا نے آپ کو شہرت کے ساتھ ساتھ صحت بھی دی ہے۔ وزیر موصوف نے بے ساختہ کہا کہ والدین دوران پرورش ایک ہی سبق سکھایا کرتے تھے کہ تندرسی ہزار نعمت ہے اس ہدایت کو میں نے اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔ آج بھی اتنی مصروفیات کے باوجود چہل قدمی اور ورزش کرنا نہیں چھوڑتا جب عملی زندگی میں بھگوان نے مجھے سیاسی زندگی میں بے انتہا کامیابی دی تو والدین کے ساتھ ساتھ غریب عوام کی دعائوں نے بھی مجھے حوصلہ دیا یہی میری صحت کا سبب ہے۔ ہر شخص کو یہ مشورہ دوں گا کہ تندرسی ہزار نعمت ہے۔ اس کو سنبھالو یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ اے اندرا کرن ریڈی وزیر جنگلات متحدہ ضلع عادل آباد سے ضلع پریشد کے صدرنشین کی حیثیت سے اس وقت کے باون منڈلوں میں اپنی کارکردگی کے ایسے نقوش چھوڑے کہ آج بھی ہر دیہات میں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بعدازاں دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ مسلسل نرمل سے چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوتے ہوئے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے پہلے وزیر بنائے گئے جبکہ 2018 میں بھی ٹی آر ایس سے منتخب ہوتے ہوئے ریاستی وزیر جنگلات کے عہدہ پر فائز ہیں۔ حلقہ اسمبلی نرمل سے 1999ء، 2004، 2014، 2018 میں ان کی شاندار کامیابی ہوئی جبکہ 2009ء میں اس نشست پر پرجاراجیم نے قبضہ کرلیا تھا۔ اے اندرا کرن ریڈی ریاستی وزیر کی کارکردگی اپنی جگہ لیکن عوام کے تمام طبقات سے ان کا تال میل اور حسن سلوک ان کی شاندار کامیابی کا ضامن ہے کیوں کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر آسانی سے کامیابی نہیں ملتی۔ نرمل کی عوام اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کی کامیابی پر انتخابات میں ٹکٹ سے زیادہ شخصیت پر منحصر رہی کسی نے خوب کہا ہے کہ کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ہیں اور کمزور لوگ دنیا کے ڈر سے اپنے فیصلے بدل دیتے ہیں۔ یقیناً کسی بھی شخصیت کی شہرت ہوکہ مقبولیت بزرگوں کی پرورش سے ہی نکھار آتا ہے۔ اس لیے اپنی اولاد کو بہترین تربیت کی فکر کرو سہولتوں کی نہیں۔ پرندے اپنے بچوں کو پرواز کرنا سکھاتے ہیں گھونسلے بناکر نہیں دیتے۔ اندرا کرن ریڈی کی ایک تصویر 1990کی ہے جب وہ سوامی ایپا میں تھے اور دوسری تصویر ایک دو دن قبل کی ہے جو سید جلیل ازہر سے بات چیت کرتے ہوئے ہے۔ کوئی بھی قاری اے اندرا کرن ریڈی سے ان کے فون پر راست بات کرسکتا ہے۔ فون نمبر: 9848024246 ہے۔
