توحید نام ہے شرک سے بیزاری کا:سید احمد اُنیس ندوی

,

   

اللہ کو روئے زمین پر سب سے زیادہ جس عمل سے نفرت ہے وہ شرک ہے۔ شرک, مظاہر شرک, شعائر شرک یہ سب اثم و عدوان کی سب سے بد ترین شکلیں ہیں۔ شرک کی طرف ادنی سا میلان یا شرک سے تنفر و بیزاری میں ادنی سی کوتاہی ایک مومن کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہے۔ ہم کو انسانیت کی خدمت کرنی ہے اور ضرور کرنی ہے مگر ہم کو خدا تعالی کے اس حکم کو کبھی فراموش نہیں کرنا ہے کہ “و لا تعانوا علی الاثم و العدوان” ۔۔۔ ہم کو یہ ملحوظ رکھنا ہے کہ شعائر شرک, مظاہر شرک اور افعال شرک کے ساتھ ہمارا کسی بھی قسم کا تعاون غضب الہی کو دعوت دینے والا ہو سکتا ہے۔ جب مکمل شرکیہ شعائر کے ساتھ خالص شرکیہ سفر پر نکلے ہوئے لوگوں کا استقبال جمعیت علماء جیسی تنظیم کرے گی, اور ان کو راحت و آرام پہنچانے کے لیے مشاورت کرے گی اور بڑے بڑے استقبالیہ کیمپ لگائے گی تو اس سے زیادہ افسوسناک اور کچھ ہو نہیں سکتا۔ ہم لوگوں نے بار بار عرض کیا کہ جمعیت کی رفاہی خدمات اور قانونی کوششوں کا سب کو اعتراف ہے مگر اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اِدھر ایک طویل عرصے سے ذمہ داران جمعیت کی طرف سے جس طرح شرک, مظاہر شرک اور شعائر شرک کے حوالے سے نہایت درجے بے احتیاطی, تساہل اور دوسری طرف منحرف افکار و نظریات کی ترویج بصورت قول یا بصورت عمل نظر آ رہی ہے وہ نہایت تشویش و فکر کا باعث ہے۔ جمعیت ملک بھر میں جماعت دیوبند کے ترجمان کی حیثیت سے خود کو متعارف کراتی ہے, مگر خدا کی قسم وہ دیوبند جہاں قاسم و رشید اور محمود و اشرف (رحمہم الله اجمعین) کے افکار و نظریات کا پاس و لحاظ رکھا جائے گا وہاں کبھی یہ لچر اور شکست خوردہ ذہنیت نہیں پنپ سکتی۔ جب توحید کی امانت ہی سینوں میں سلامت نہ رہے, جب شرک سے بیزاری کا تصور ہی ختم ہو جائے, جب پر فریب اور غیر اسلامی عناوین کا ایسا تصور قائم ہو جائے جو شرک و توحید کو آپس میں ضم کرنے لگے تو پھر تمام رفاہی اور قانونی خدمات خدا تعالی کی نظر میں ایک جھاگ اور تنکے کی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔اور اس سے زیادہ سخت افسوس ان “مفتیوں” اور “مولویوں” پر ہوتا ہے جو مسلکی اور فروعی مسائل کے اختلافات پر تو ایسا شور و غوغا مچاتے ہیں اور ایسے فتوے بازیاں کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ !!!! مگر توحید و شرک سے متعلق ایسی صریح غلطیاں ان کو نظر نہیں آتیں, یہاں ان کے پاس تاویلات کا ایک پٹارہ ہوتا ہے جو فوراً کھول دیا جاتا ہے۔ اللہ کی توحید اور کتاب و سنت کے واضح ارشادات کے مقابلے ان کی اپنی تنظیم, ان کے اپنے حلقے اور ان کے اپنے قائد زیادہ اہمیت حاصل کر لیتے ہیں !!!! ایسے صریح شرکیہ افعال پر یہ تعاون دیکھ کر ہمارے ضلعی و علاقائی ذمہ داران جمعیت کو مل جل کر اپنی قیادت سے صاف صاف بات کرنی چاہیے۔ کھلے خط ان کو ارسال کرنے چاہیے اور اپنی بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے پھر چاہے عہدہ سلامت ہے یا نہ رہے اس کی کوئی پروا نہیں ہونی چاہیے۔ صاف کہنا چاہیے کہ ہم پچھلے کئ سالوں سے صف اول کے قائدین سے لے کر چھوٹے درجے کے ذمہ داران تک سب میں شرک اور افعال شرک کے حوالے سے یہ جو تساہل اور کمزوری مختلف موقعوں پر دیکھ رہے ہیں یہ ناقابل برداشت ہے۔ یہ کمزوری شیخ الہند و شیخ الاسلام کی میراث نہیں ہے۔ یہ جو کچھ ایک عرصے سے ہو رہا ہے یہ سب آخری درجے کے وہن, احساس کمتری, خود سپردگی, شکست خوردگی اور ذہنی دیوالیہ پن و مرعوبیت کی بیمار نفسیات ہیں جن میں ہم دھیرے دھیرے اس بری طرح مبتلا ہوتے جا رہے ہیں کہ توحید و شرک کے حدود بھی اب یاد نہیں رہ گئے !!!! مجھے سب سے زیادہ افسوس ان بہت سے فارغین مدارس پر ہوتا ہے جو صحیح و غلط کی تمییز رکھنے کے باوجود محض عصبیت جاہلیہ میں مبتلا ہو ان غلطیوں پر کھل کر تنقید نہیں کرتے اور انہی تنظیموں کی رفاہی خدمات پر یوں شادیانے بجاتے ہیں کہ ان سے زیادہ خوش روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔ ایسے حساس مسائل میں کہاں چلی جاتی ہے ان کی ایمانی غیرت !!! کہاں مر جاتی ہے ان کی اسلامی حمیت !!! کیا شرک سے زیادہ بھی کوئی شنیع عمل اس روئے زمین پر ہو سکتا ہے ؟؟ اے کتاب و سنت کے وارثوں ذرا خود سے تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوال پوچھو اور دیکھو تمہارا دل تم سے کیا کہتا ہے ؟؟؟ کاش کوئی سنجیدہ اور علمی وزن رکھنے والا شخص اس وقت یہ ذمہ داری لے کہ حلقہ دیوبند, حلقہ اہل حدیث اور حلقہ بریلویت کے تمام اہم مدارس کو یہ ساری تفصیلات مع تصاویر ارسال کرے اور ان سے ان کا فتوی اور موقف معلوم کرے تاکہ حجت تمام ہو جائے۔