توہم پرست جوڑے نے اپنی ہی بیٹیوں کی بلی چڑھادی

   


آندھرا پردیش کے مدن پلی میں افسوسناک واقعہ ۔ وائس پرنسپل باپ اور پرنسپل ماں گرفتار

امراوتی ۔ انسانوں کی بلی چڑھانے کے ایک انتہائی مذموم اور حیرت انگیز واقعہ میں آندھرا پردیش کے چتور ضلع میں ایک جوڑے نے اپنی ہی دو لڑکیوں کو توہم پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا اور ان کا قتل کردیا ہے ۔ یہ واقعہ اتوار کی رات پیش آیا ۔ اس واقعہ کے بعد سارے ضلع میں سنسنی دوڑ گئی ۔ اس سارے معاملے کی تفصیلات بھی آج منظر عام پر آگئیں۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے بموجب دونوں مہلوک لڑکیوں میں چھوٹی لڑکی 22 سالہ دیویا نے تین دن قبل سوشیل میڈیا پر ایک پوسٹ کیا تھا جس میں تحریر تھا کہ ’’ شیوا آچکے ہیں۔ کام ہوچکا ہے ‘‘ ۔ اس پر کچھ شبہات پیدا ہوئے ہیں جس کی تحقیقات کی جا رہی ہے ۔ چتور کے مدن پلی گاوں کیلئے آج صبح سراغ رساں ٹیم پہونچ گئی ہے اور متوفی لڑکیوں کی نعشوں کو بھی دواخانہ منتقل کردیا گیا ہے ۔ لڑکیوں کا باپ این پرشوتم نائیڈو شیوانگر مدن پلی رورل منڈل کا ساکن ہے جو مدن پلی گورنمنٹ ڈگری کالج کا وائس پرنسپل ہے ۔ لڑکیوں کی ماں پدماجا ایجوکیشنل کرسپانڈنٹ اور پرنسپل ہے ۔ انہیں دو لڑکیاں تھیں ۔ بڑی لڑکی 27 سالہ الیکھیا اور چھوٹی لڑکی 22 سالہ سائی دیویا ۔ بڑی لڑکی بھوپال میں پوسٹ گریجویٹ رک رہی ہے جبکہ چھوٹی لڑکی نے بی بی اے مکمل کیا ہے اور موسیقی سیکھ رہی تھی ۔ یہ تمام لوگ گذشتہ سال اگسٹ میں شیوانگر میں اپنے گھر پوجا کیلئے جمع ہوئے تھے ۔ اسی سلسلہ میں اتوار کی رات کو بھی ان کے گھر میں پوجا کی گئی ۔ جس کے بعد چھوٹی لڑکی سائی دیویا کو چھرا گھونپ کر ہلاک کردیا گیا جبکہ بڑی لڑکی الیکھیا کے کے منہ میں تانبے کا لوٹا گھسایا گیا اور ایک ڈمبل سے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ پرشوتم نائیڈو نے اس واقعہ کو اپنے کالج میں ایک ٹیچر کے گوش گذار کیا جس نے گھر جا کر سارا معاملہ دیکھا اور بعد میں پولیس کو اطلاع دی ۔ مدن پلی کے ڈی ایس پی منوہر چاری ‘ انسپکٹر سرینواسو اور دوسروں نے مقام واقعہ پر پہونچ کر تفصیلات سے آگہی حاصل کی ۔ اس جوڑے سے پولیس تحقیقات کی جا رہی ہے ۔ اس جوڑے کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اس کیلئے قتل کیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ ایسا کرنے سے یہ دونوں ماورائی طاقتوں کے ساتھ دوبارہ جنم لیں گی ۔ بعد ازاں اس جوڑے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اس واقعہ سے سارے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ۔