توہین رسالت ؐکے نام پر ظلم کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے:عمران

,

   

جب تک زندہ ہوں سیالکوٹ جیسا واقعہ دوبارہ ہونے نہیں دوں گا ، تمام مسالک کے علماء کی مذمت
۔ 10 ڈسمبر کو پاکستان بھر میں علماء کا یوم مذمت کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جس کسی نے بھی اسلام یا نبی ﷺ کا نام استعمال کرتے ہوئے کسی دوسرے انسان پر ظلم کیا ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔سیالکوٹ کے سانحہ میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے عدنان کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عدنان آپ اکیلے ایک آدمی تھے جو حق پر کھڑے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ تاریخ آپ کو ایک بہادر کے طور پر یاد رکھے گی کہ ایک انسان تھا جو حیوانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا تھا۔ آپ نوجوانوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسلام اور توہین رسالت ﷺ کے نام پر چند لوگ خود ہی فیصلہ کرلیتے ہیں اور خود ہی سزا بھی دے دیتے ہیں اور اگر خوش قسمتی سے الزام کا سامنے کرنے والا زندہ بچ جائے اور گرفتار ہو کر جیل پہنچ جائے تو نہ تو کوئی وکیل کیس لڑنے کی ہمت کر پاتا ہے اور نہ ہی کوئی جج کیس سننے کو تیار ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جو کوئی بھی اسلام یا نبی آخری الزماں ﷺ کے نام پر کسی پر ظلم کرے گا ہم اسے کسی بھی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد قوم کو دوبارہ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔دریں اثناء تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔سری لنکن ہائی کمیشن کے باہر تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کے وفد نے نے سری لنکن ہائی کمشنر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور خاطیوں کے خلاف شدید ترین کارروائی کا مطالبہ کیا۔ واضح رہیکہ پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کے قتل اور نعش جلائے جانے کو بھیانک اور خوف ناک واقعہ قرار دیا ہے۔ علما نے اپیل کی ہے کہ 10 دسمبر کو ملک بھر میں ’یومِ مذمت‘ کے طور پر منایا جائے۔اسلام آباد میں مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے سری لنکن ہائی کمیشن کا دورہ کیا اور وہاں سری لنکن حکام اور ہائی کمشنر موہن وجے وکراما سے ملاقات کی۔ علما نے تین دسمبر کو پیش آئے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔تین دسمبر کو سیالکوٹ میں ایک فیکٹری کے سری لنکن مینیجر کو مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کرکے قتل کر دیا تھا اور بعد ازاں ان کی نعش کو سڑک پر آگ لگا دی تھی۔سری لنکن حکام سے ملاقات کے بعد علما کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد اپنے دلی جذبات کا اظہار اور واقعے کی مذمت کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا ہمارا برادر ملک ہے۔ جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں وہ بدترین سزا کے مستحق ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ سیالکوٹ بزنس کمیونٹی نے آنجہانی سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے اہلِ خانہ کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی امداد جمع کی ہے۔ اپنے خطاب میں عمران خان نے بتایا کہ سیالکوٹ بزنس کمیونٹی نے آنجہانی سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے اہلِ خانہ کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی امداد جمع کی ہے۔