چار آئی اے ایس عہدیدار عدالت میں حاضر، اسکول کے احاطہ میں تعمیری کاموں کی مخالفت
حیدرآباد۔9 ۔اگست (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے مقدمہ میں حکومت کی پھر ایک بار سرزنش کی ہے ۔ توہین عدالت کے مقدمہ میں آج 4 آئی اے ایس عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے ۔ پنچایت راج کے پرنسپل سکریٹری ، کمشنر ، پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اور آئی اے ایس عہدیدار وجئے کمار حاضر عدالت ہوئے۔ اسکول عمارتوں میں رعیتو بھروسہ اور پنچایت کی عمارتوں میں تعمیراتی کاموں کے خلاف ہائی کورٹ نے احکامات جاری کئے تھے ۔ عدالت نے کہا کہ اسکولوں کے احاطہ میں تعمیری کام انجام نہ دینے کی ہدایت کے باوجود عہدیداروں نے جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ بچوں کے تعلیم حاصل کرنے کے اسکولوں میں عہدیدار ماحول کو آلودگی سے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جسٹس دیوآنند نے عہدیداروں سے سوال کیا کہ آپ میں سے کسی نے ان سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے ؟ جج نے عدالت کے احکامات کے باوجود تعمیری کام جاری رکھنے پر برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے کہا کہ اسکولوں کے احاطہ میں سیاسی سرگرمیاں کس طرح انجام دی جاسکتی ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی ہے ۔ اور عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ سماعت کے موقع پر شخصی طور پر حاضر رہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ حکومت کو تفصیلات سے واقف کراتے ہوئے رپورٹ پیش کریں گے۔
