تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی

   

Ferty9 Clinic

نیا سال نئی امیدیں … آزمائش کے بعد راحت کی امید
باہری ہندو ہندوستانی … اپنا مسلمان پاکستانی

رشیدالدین
’’کمرہ کا کیلنڈر تو بدل جاتا ہے ہر سال۔ اب کے مرے حالات بدل دے میرے مولیٰ‘‘ نواز دیوبندی کی اس دعاء کے ساتھ ہم بھی 2025 کو وداع کرتے ہوئے 2026 کے استقبال کی تیاری میں ہیں۔ انسان فطرتاً آشاوادی یعنی پُرامید ہوتا ہے ۔ گزرے سال میں اس کے حالات میں بھلے ہی کوئی بہتری نہ ہوئی ہو لیکن نئے سال کے ساتھ وہ امیدیں وابستہ کرلیتا ہے۔ کوئی نئے سال کے استقبال کے جشن میں شامل ہوکر گزرے سال کے دکھ ، غم ، آزمائش اور مشکلات کو بھلانا چاہتا ہے تو بعض دوسرے نئے سال کا استقبال کرتے ہوئے خدا سے دعا کرتے ہیں کہ خوشی ، کامیابی ، خوشحالی ، امن اور بھائی چارہ کا پیام لائے تاکہ سماج میں سکون برقرار رہے۔ کسی بھی سماج کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار امن پر ہوتا ہے اور امن کے لئے بھائی چارہ اور رواداری ضروری ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی 2025 کو وداع کرنے اور 2026 کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں جائزہ لیں تو ایک سال نہیں بلکہ 2014 سے ہی ملک کو بری نظر لگ چکی ہے۔ آر ایس ایس نظریات پر قائم مودی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، اچھے دن کا نعرہ محض ایک خواب بن چکا ہے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس ، سب کا وشواس ، سب کا پریاس جیسے سرکاری نعرے وقت کے ساتھ ساتھ عام آدمی کیلئے راحت کے بجائے گالی بن چکے ہیں۔ نریندر مودی حکومت اور اس کی سرپرستی میں بے قابو جارحانہ فرقہ پرست عناصر نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے اطراف گھیرا تنگ کرتے ہوئے احساس کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمان کبھی یہ دعویٰ نہ کرسکیں کہ ملک میں وہ برابر کے حصہ دار ہیں۔ جدوجہد آزادی میں جان و مال کی قربانی دینے والوں کے ساتھ کرایہ دار سے بدتر سلوک روا رکھا گیا ہے ۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ کچھ بھی ہوجائے اس کی سنوائی نہیں ہوگی۔ حکومتوں سے تو کسی طرح کی امید رکھنا فضول ہے۔ ہاں عدلیہ سے ابھی بھی انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ملک کی کئی عدالتوں سے مسلمانوں کو مایوسی ضرور ہوئی لیکن ابھی بھی ایسے ججس موجود ہیں جو مودی حکومت اور فرقہ پرستوں کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ نئے سال کے استقبال کیلئے آخر کن کن باتوں کو بھلایا جائے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر، طلاق ثلاثہ کی تنسیخ ، دفعہ 370 کی برخواستگی ، CAA ، NRC ، NPA ، یکساں سیول کوڈ ، مسلمانوں کی ماب لنچنگ ، فرضی مقدمات میں ضمانت کے بغیر برسہا برس جیل کی سزا، اذان پر پابندی ، کھلے عام نماز پر روک ، تاریخی مساجد اور عمارتوں پر مندر کی دعویداری ، حجاب پر پابندی ، حلال غذاؤں کے استعمال پر اعتراض ، مسلم تاجروں کا بائیکاٹ ، الغرض گزشتہ 10 برسوں کے اتنے زخم ہیں کہ ان کا شمار کرنا آسان نہیں۔ ایک ہنگامہ محشر ہو تو اس کو بھولوں، سینکڑوں باتوں کا رہ رہ کے خیال آتا ہے کے مصداق 2025 کو الوداع کہنے اور 2026 کو ویلکم کرنے سے شائد ہی مسلمانوں کے حالات میں سدھار کی امید کی جاسکتی ہے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ نے 2026 کو ہندوستان اور مظلوم اقلیتوں کو اچھے دن میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر کوئی عجب نہیں کہ ظالموں کے ظلم کا خاتمہ ہوجائے۔ مسلمانوں کو مساجد ، عیدگاہ اور قبرستان سے محروم کرنے وقف ترمیمی قانون کو منظوری دی گئی۔ ملک میں نفرت کے ماحول کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیکولرازم اور مسلم دوستی کا نقاب اوڑھے افراد بھی مسلم ڈاکٹر کا حجاب جبراً اتارنے کی جرأت کرنے لگے۔ نئے سال کی آمد کے موقع پر ہم نے دوسروں کی طرح خود کو بہتر حالات کی امید اور خواہش سے وابستہ کرتے ہیں۔ ویسے بھی قانون قدرت ہے کہ جب ظلم حد سے گزر جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ شائد 2026 فرقہ پرستوں کے زوال اور سیکولر و جمہوری طاقتوں کے عروج کا آغاز ہو۔ ہندوتوا ایجنڈہ پر بے خوف عمل آوری کے ذریعہ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی تیاری ہے۔ لوک سبھا میں واضح اکثریت نہ ہو تو یہ حال ہے اور جس دن اکثریت مل جائے ، دستور کو تبدیل کردیں گے۔ 2024 لوک سبھا چناؤ کے نتائج سے نریندر مودی کی مقبولیت میں کمی کا آغاز ہوچکا ہے ۔ 400 نشستوں کا نشانہ مقرر کرنے والوں کو عوام نے 240 تک محدود کرتے ہوئے سادہ اکثریت بھی نہیں دی۔ مودی میجک کو کمزور ہوتا دیکھ کر بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہندوتوا ایجنڈہ کو تیز کردیا تاکہ ہندو ووٹ بینک مستحکم رہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کھلے عام ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو دیکھ کر آر ایس ایس کے بارے میں اندازے قائم نہ کریں۔ آر ایس ایس کے سیویم سیوک بھلے ہی اقتدار میں کیوں نہ ہوں لیکن آر ایس ایس کے نظریات ان سے میل نہیں کھاتے۔ دراصل بھاگوت ’’نیا جال لائے پرانے شکاری‘‘ کی طرح بی جے پی سے دوری کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی آر ایس ایس کا سیاسی شعبہ ہے اور حکومت وہی کرتی ہے جو آر ایس ایس چاہتی ہو۔ آر ایس ایس کی دیش بھکتی کا یہ عالم ہے کہ آزادی کے بعد سے 52 برس تک اس کی شاکھاؤں میں ترنگا نہیں لہرایا گیا۔ آر ایس ایس والے آج بھی وندے ماترم گیت اپنی شاکھاؤں میں نہیں پڑھتے جبکہ دوسروں کو مجبور کیا جارہا ہے۔ جدوجہد آزادی کے دوران وندے ماترم کا نعرہ لگانے کے جرم میں آر ایس ایس کے کسی بھی لیڈر کو سزا نہیں ہوئی ۔ ہیگڈیوار ہوں یا گولوالکر ان کی ایک بھی تقریر انگریزوں کے خلاف نہیں ملے گی۔ جدوجہد آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دینے اور محمد علی جناح کے ساتھ سندھ اور بنگال میں مخلوط حکومت قائم کرنے والے شیاما پرساد مکرجی کے وارثین آج مسلمانوں کو حب الوطنی کا درس دے رہے ہیں۔
’’باہری ہندو ہندوستانی، اپنا مسلمان پاکستانی‘‘ ملک میں آج کچھ یہی صورتحال ہے۔ بنگلہ دیش میں دیپو نام کے ایک نوجوان کو ماب لنچنگ کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا جس کے خلاف نئی دہلی اور دیگر شہروں میں احتجاج کیا گیا۔ قتل چاہے کسی مذہب کے ماننے والے کا ہو اور دنیا کے کسی حصہ میں ہو، اس کی مذمت کی جانی چاہئے ۔ ہندوستان میں بنگلہ دیش کے خلاف محض اس لئے احتجاج کیا جارہا ہے کہ مہلوک ہندو تھا ۔ اکتوبر 2023 سے غزہ میں 70669 فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت نے موت کے گھاٹ اتاردیا جن میں بچے ، بوڑھے اور خواتین شامل ہیں لیکن ہندوستان میں اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔ شائد اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ ملک میں نفرتی سیاست کے فروخت کے بعد سے احتجاج بھی مذہبی رنگ اختیار کرچکا ہے۔ کسی بھی ہندو کی ہلاکت پر ہندوستان میں احتجاج کیا جارہا ہے بھلے ہی وہ ملک کا نہ ہو جبکہ ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم اور ماب لنچنگ پر سناٹا ہے۔ سیاسی مبصرین نے تبصرہ کیا ہے کہ باہر کے ہندوؤں کو ہندوستانی سمجھ کر احتجاج کرنا اور دیش کے مسلمانوں کو پاکستانی قرار دے کر ان پر ہونے والے حملوں ، ماب لنچنگ اور بلڈوزر کارروائیوں پر خاموشی باعث حیرت ہے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کو پہچان ثابت کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے اور ان کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کئے جارہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف نفرت کا عجیب مظاہرہ کیرالا میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب بنگالی بولنے والے ایک شخص کو بنگلہ دیشی سمجھ کر ہلاک کردیا گیا جبکہ وہ شخص ہندو تھا۔ ہندو نوجوان کی ہلاکت پر بنگلہ دیش حکومت نے خاطیوں کو گرفتار کیا لیکن ہندوستان میں اخلاق کی ماب لنچنگ کے ذمہ داروں کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اتر پردیش حکومت نے عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے اخلاق کی ہلاکت کے 10 ملزمین کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ عدالت نے اترپردیش حکومت کی درخواست کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ روزانہ کی اساس پر ٹرائل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 28 ڈسمبر 2015 کو دادری میں بیف کے نام پر اخلاق کو قتل کیا گیا اور فروری 2021 میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔ مقدمہ کے فیصلہ سے قبل ہی یوگی ادتیہ ناتھ حکومت قاتلوں کو بری کرنا چاہتی ہے۔ دراصل مغربی بنگال میں چناؤ کے پیش نظر بی جے پی نے ملک بھر میں فرقہ وارانہ اور نفرت کے ماحول کو گرما دیا ہے ۔ ہندو نوجوانوں کو بھی روٹی روزگار کے مسائل سے ہٹاکر وندے ماترم سے جوڑ دیا گیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’روپیہ روزگار کی کاہے چنتا، وندے ماترم سے خوش ہے جنتا‘‘۔ اسی طرح ہندوستان کو جو ہندو اکثریتی ملک ہے، ہندو راشٹر قرار دیا جارہا ہے۔ نیپال جو حالیہ عرصہ تک ہندو راشٹر تھا ، وہ سیکولر ملک میں تبدیل ہوچکاہے لیکن ہندوستان جیسے سیکولر سوشلسٹ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی سازش ہے۔ نئے سال کی آمد پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی