تکنیکی وجوہات عدالتِ اعظمیٰ کو مکمل انصاف سے نہیں روک سکتیں : مرکز

   

نئی دہلی، 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے سبري مالا معاملے میں جمعرات کو سپریم کورٹ میں کہا کہ کوئی بھی تکنیکی وجوہات عدالت کو مکمل انصاف سے نہیں روک سکتیں ۔ ادھر نظر ثانی عرضی دائر کرنے والوں نے کہا کہ متعلقہ آئینی بینچ کو سب سے پہلے ان کی درخواستوں کا تصفیہ کرنا چاہئے تھا، اس کے بعد دیگر اہم پہلوؤں پر بعد میں غور کرنی چاہئے تھی ۔ آئینی بینچ میں جسٹس آر بھانو متی ، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس ایم ایم شانتا نگودر، ایس عبد نذیر، جسٹس آر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت بھی شامل ہیں۔مرکزی حکومت کی جانب سے سالسٹر جنرل تشار مہتہ نے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی سربراہی والی نو رکنی آئینی بنچ کے سامنے دلیل دی کہ کوئی بھی تکنیکی وجوہات عدالت کو مکمل انصاف سے نہیں روک سکتی ۔ مہتا نے دلیل پیش کی کہ ہم جنس پرستی کے مسئلے پر بھی سپریم کورٹ نے کیوریٹو عرضی کی سطح پر جاکر مداخلت کی اور اپنا فیصلہ دیا تھا تو اس معاملے میں مختلف اہم پہلوؤں پر عدالتی رولنگ دینے سے کسے روکا جا سکتا ہے۔