تھوریم کی اسمگلنگ روکنے کے مناسب بندوبست کئے گئے :جتیندر سنگھ

   

نئی دہلی،26جون(سیاست ڈاٹ کام)حکومت نے آج کہا کہ ملک میں 2012-13 میں کیرالہ اور تمل ناڈو کے سمندری ساحلی علاقوں سے تھوریم کے ذخائر سے چوری کے واقعات کے بعد اسمگلنگ کو روکنے کے مناسب انظامات کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر میں ریاستی وزیر اور نیوکلائی توانائی اور خلائی محکمے کے انچارج ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں وقفہ سوال میں اطلاع دی۔ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ ہندوستان میں تھوریم کے ذرائع مونوزائٹ کا 1.2کروڑ ٹن کا بہت بڑا ذخیرہ ہے ۔آنے والے دنوں میں ملک میں تھوریم پر مبنی پلانٹ قائم کئے جائیں گے ۔اس سے ہندوستان کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 2012-13 میں سمندری ساحلوں میں ریت کے نیچے مونوزائٹ کے ذخائر سے اسمگلنگ کی خبریں آئیں تھیں۔کئی مقامات پر گرینائٹ کی کان کنی کے ٹھیکے لئے جاتے تھے اور ٹھیکے دار مونوزائٹ کھود کرلے جاتے تھے۔ لیکن حکومت نے سیٹلائٹ کے ذریعہ سے اور جدید ٹیکنولوجی کے ذریعہ سے نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا ہے ۔اب کھلے عام اسمگلنگ پر پابندی لگائی گئی ہے ۔ جتیندر سنگھ نے ایک دیگر سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں اس وقت 22 نیوکلائی پلانٹ کام کررہے ہیں۔تارہ پور نیوکلائی پلانٹ کو اس سال 50 سال برس پورے ہورہے ہیں۔نیوکلیائی پلانٹ مسلسل 365 دن سے زیادہ کام کرتے رہے ،یہ ریکارڈ ملک میں 108 بار قائم ہوا ہے ۔حکومت نے 2024-25 تک 12 نیوکلائی پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیاتھا۔یہ پلانٹ پانچ مقامات پر لگائے جائیں گے ۔