تہاڑ جیل کے دروازے پر آنسو، مسکراہٹیں اور آزادی

,

   

Ferty9 Clinic

گلفشاں فاطمہ کی رہائی نے جذباتی مناظر رقم کر دیئے، فیملی نے والہانہ استقبال کیا
نئی دہلی : 8 جنوری (ایجنسیز) دہلی 2020 فسادات سازش کیس کی ملزمہ گلفشاں فاطمہ کو چہارشنبہ کی رات رہا کر دیا گیا۔ یہ رہائی اس وقت عمل میں آئی جب دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد باضابطہ رہائی کے احکامات جاری کئے۔ عدالت نے اس بات کی تصدیق کی کہ گلفشاں فاطمہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کردہ تمام ضمانتی شرائط پوری کر دی ہیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلفشاں فاطمہ جیل سے باہر نکلتے وقت ایک بیگ تھامے ہوئے ہیں، جہاں ان کے گھر والے اور حامی کئی گھنٹوں سے ان کے انتظار میں موجود تھے۔ ویڈیوز میں ان کی جذباتی ملاقات کے مناظر قید ہیں، جن میں گھر والوں نے انہیں ہار پہنائے، پھول نچھاور کیے، گلے لگایا اور مٹھائیاں پیش کیں۔ یہ ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر وائرل ہو گئیں۔گلفشاں فاطمہ کی رہائی اس وقت ممکن ہوئی جب ٹرائل کورٹ نے سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کردہ شرائط پر مکمل عمل درآمد کی توثیق کر لی۔ اس سے قبل دن میں عدالت نے ان چار ملزمین کے لئے رہائی کے احکامات جاری کیے تھیجنہیں سپریم کورٹ نے ضمانت دی تھی، اور جنہوں نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو مقامی ضامن جمع کرائے تھے۔ دہلی پولیس نے ضمانتوں اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ رپورٹ عدالت میں پیش کی، جس کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ تمام ضروری تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔پانچواں ملزم، جسے پیر کے روز سپریم کورٹ نے ضمانت دی تھی، ٹرائل کورٹ میں ضمانتی کارروائی مکمل کرنے کے لیے پیش نہ ہو سکا، جس کے باعث اس کی رہائی عمل میں نہیں آئی۔ دیگر تین ملزمین کی رہائی بھی تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔
مڈ ڈے میل اسکیم میں 2,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا گھپلہ بے نقاب
جے پور، 8 جنوری (یو این آئی) راجستھان میں انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے مڈ ڈے میل اسکیم میں 2,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے گھوٹالہ کا انکشاف کرتے ہوئے راجستھان اسٹیٹ کوآپریٹو کنزمپشن فیڈریشن لمیٹڈ (کونفیڈ) اور نجی فرموں کے 21 نامزد ملزمان کے خلاف معاملہ درج کیا ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کووڈ۔19 وبائی امراض کے دوران اسکول بند رہنے کے دوران ریاستی حکومت کے زیر انتظام ریاستی مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت اسکولی طلباء کو اناج فراہم کرانے کے لیے کونفیڈ کے ذریعہ دال، تیل، مسالے وغیرہ پر مشتمل کومبو پیک کی سپلائی کرائی گئی تھی۔
یہ آئٹمز ایف ایس ایس اے آئی اور ایگمارک کے معیارات کے مطابق قراردیتے ہوئے ریاست کے اسکولوں تک ڈوراسٹیپ ڈلیوری کا دعویٰ کیا گیاتھا۔ اس اسیکم کے نفاذ میں بھاری بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی شکایات کے بعد، اینٹی کرپشن بیورو نے ابتدائی تحقیقات کا اندراج کیا ہے ۔