تہران میں معروف ٹاورز کے سامنے رقص اور میٹرو پر بے پردہ خواتین

   

دبئی: مبصرین اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ایران میں گزشتہ ماہ کے وسط سے جو مظاہرے ہو رہے ہیں اس کی وجہ دہائیوں سے نوجوانوں پر مسلط جابرانہ قوانین بھی ہیں۔ان مظاہروں نے ثابت کر دیا کہ حکمرانوں اور نوجوان طبقے کے درمیان خلیج بڑھ گئی ہے۔سوشل میڈیا کی نسل یا جنریشن سیون اب طاقت کے ذریعہ محدود کئے جانے اور مسلط کی گئی پابندیوں سے گویا تنگ آ چکی ہے۔ان احتجاجی مظاہروں کے بعد نوجوانوں میں آزادی کی لہر اٹھ رہی ہے اور ایران میں اس آزادی کی علامات نظرآنے لگی ہیں۔تہران میں چہل قدمی کرنے والوں کو تبدیلی نظر آئے گی کیونکہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایرانی کارکنوں کے درمیان پھیلنے والے بہت سے ویڈیو کلپس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں ایک باغیانہ رویہ سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ اس کا ایک مظہر اس وقت سامنے آیا جب دارالحکومت کی میٹرو میں درجنوں نوجوان خواتین بغیر اسکارف کے نمودار ہوگئیں۔جبکہ تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ویڈیو کلپس میں نوجوان مرد اور خواتین طالب علموں کو ”کیفے ٹیریا’’میں ایک ساتھ بیٹھتے ہوئے اور علیحدگی کے قوانین کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ایرانی دارالحکومت کے مشہور ترین نشانات میں سے ایک آزادی ٹاور کے سامنے ایک نوجوان ایرانی خاتون نے تو رقص کرڈالا، خاتون نے اپنے بال نیچے کر دیے اور حکومت کی مخالفت کی۔ ہزاروں خواتین نے اس خاتون کی ہے۔ بڑی تعداد میں خواتین چھ ہفتے پہلے سڑکوں پر آئیں اور اب بھی اپنے اڑتے بالوں سے اخلاقی پولیس کی نفی کر رہی ہیں۔ایرانی کارکنوں اور مغربی صحافیوں نے اس ویڈیو کو دوبارہ شیئر کیا جو اس سے قبل مظاہروں کے دوران گردش میں آئی تھی۔نیٹ ورک ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز ملک میں ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے اونچے درجے کی شریف یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والے طلبا اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔کئی طالبات سر سے اسکارف اتار کر سٹوڈنٹ ڈائننگ ہال میں داخل ہوئیں۔دریں اثنا یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے کیمپس میں غیر آرام دہ ماحول پیدا کرنے میں ملوث ہونے کی بنیاد پر طلبہ کے ایک چھوٹے گروپ کو اپنے کیمپس میں داخل ہونے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔16 ستمبر کو پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے تاحال کمزور نہیںہوئے ہیں۔