بازار کھل گئے لیکن کاروبار نہیں ، عوامی امداد سے غذا کے لیے ذلت و رسوا ئی کی پردہ پوشی
حیدرآباد۔29مئی (سیاست نیوز) خدا کیلئے آپ ہمارے لئے غذاء کا انتظام کریں بازار کھول دیئے گئے ہیں لیکن ہمیں ابھی کوئی کاروبار نہیں مل رہا ہے اور نہ ہی ہماری ملازمتیں باقی ہیں۔لاک ڈاؤن کے دوران آپ لوگوں کی جانب سے روانہ کردہ تیار غذاؤں نے ہمیں ذلیل و رسواء ہونے کے علاوہ بھوک سے بچا لیا ہے اور اب بازار کھول دیئے جانے کے ساتھ ہی تیار غذاؤں کی سربراہی بند کئے جانے سے شہر حیدرآباد کے غریب عوام میں بے چینی پھیلنے لگی ہے اور وہ کھانے کی سربراہی یقینی بنانے والے افراد سے التجاء کر رہے ہیں کہ کم از کم مزید ایک ماہ کیلئے وہ غذاء کی فراہمی کے سلسلہ کو جاری رکھیں کیونکہ گھر تک غذاء پہنچنے سے ان کی عزت بھی محفوظ رہی اور انہیں دو وقت کا کھانا بھی میسر آتا رہا لیکن اب عید الفطر کے بعد سے یہ سلسلہ ترک کردیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اب بازار کھول دیئے گئے ہیں اور کوئی بھی کچھ بھی کاروبار کرسکتا ہے لیکن پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے ایک آٹو ڈرائیور نے بتایا کہ عید الفطر سے قبل جب لاک ڈاؤن میں راحت کا اعلان کیا گیا تو یہ توقع کی جا رہی تھی کہ معمول کے مطابق نہ سہی لیکن کچھ تو کاروبار ہوگا لیکن عید الفطر سے قبل اور اب عید الفطر کے گذر جانے کے بعد بھی کاروبار 30 فیصد بھی نہیں ہیں اور ان حالات میں آٹو میں پٹرول اور سواری کی تلاش میں گھومنے کے دوران ہی وصول ہونے والا کرایہ ختم ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران عزت کے ساتھ غذاء گھر تک پہنچ رہی تھی جس کے سبب انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ معاشی حالات انتہائی ابتر ہوچکے ہیں لیکن اب جبکہ تیار غذاء کی تقسیم کا عمل بند کیا جاچکا ہے تو اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ یہ کتنی بڑی راحت کا سامان تھا۔ شہر حیدرآباد میں مختلف مقامات پر مزدوروں‘ سلم علاقوں کے علاوہ غریب اور مستحق شہریوں کے لئے چلائے جانے والے کچن کے ذریعہ تیار غذائی اشیاء کی تقسیم کا سلسلہ عید الفطر کے بعد بند کردیا گیا اور چند ایک مقامات پردوپہر کے مفت کھانے کا انتظام کیا جارہا ہے جو کہ شہریوں کے لئے ناکافی ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں مختلف اداروں‘ تنظیموں ‘شخصیتوں کی جانب سے کھانے کی تقسیم کا سلسلہ جاری تھا جو کہ حکومت کے لئے بہت بڑی راحت ثابت ہوا کیونکہ اگر یہ تنظیمیں خدمات انجام نہیں دیتی تو حکومت اپنے ہی شہریوں کو غذاء کی فراہمی یقینی بنانے کے موقف میں نہیں تھی۔ شہر حیدرآباد میں جو تیار غذائی پیاکٹس کی تقسیم عمل میں لائی جا رہی تھی اس سے استفادہ کرنے والوں کا کہناہے کہ وہ پیشہ ور بھکاری نہیں ہیں کہ بازاروں کے کھل جانے سے بازار میں نکل کر بھیک مانگنے لگ جائیں ۔لاک ڈاؤن کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے کئی مقامات ٹولی چوکی ‘ نانل نگر‘ مغلپورہ‘ شاہین نگر‘ عنبر پیٹ کے علاوہ گوشہ محل اور سلطان بازار کے علاقو ںمیں عوامی کچن شروع کئے گئے تھے اور ان کچن کے ذریعہ شہر میں ضرورت مندوں کو کھانے کی تقسیم عمل میں لائی جا رہی تھی لیکن اب جبکہ لاک ڈاؤن میں راحت دے دی گئی ہے تو یہ کچن بھی بند کر دیئے گئے ہیں لیکن ضرورت مندوں کی ضرورت جوں کی توں برقرار ہے ۔اسی لئے تیار غذائی اشیاء کی تقسیم کے سلسلہ کو جاری رکھے جانے کی ضرورت ہے تاکہ ان لوگوں کوکم از کم دو وقت کے کھانے کی فکر سے آزادی حاصل ہوسکے جو لاک ڈاؤن کے منفی اثرات کا اب بھی شکار بنے ہوئے ہیں۔