تیز رفتار ترقی کے باوجود غذا اور پانی کئی ممالک کا اہم مسئلہ

   

افریقی ممالک میں 46 فیصد عوام فکرمند، ہندوستان اور امریکہ کی صورتحال بہتر
حیدرآباد ۔ یکم اپریل (سیاست نیوز) دنیا میں تیز رفتار ترقی کے باوجود کئی ممالک ایسے ہیں جہاں غذا اور پانی کا تحفظ ایک اور سنگین مسئلہ ہے ۔ گزشتہ سال سروے کے مطابق ساؤتھ افریقہ میں غذا اور پانی کے تحفظ کے بارے میں 46 فیصد افراد فکرمند پائے گئے ہیں۔ غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کا رجحان برقرار ہے لیکن زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کے نتیجہ میں کئی ممالک پینے کے پانی کی سربراہی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جنوبی افریقہ اور دیگر افریقی ممالک میں غذا اور پانی آج بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ میکسیکو ، چین ، ہندوستان اور امریکہ میں غذا اور پانی کے تحفظ پر عوام کی توجہ ضرور ہے لیکن غیر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں امریکہ ، ہندوستان اور چین میں پانی اور غذا کی فراہمی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ۔ ہندوستان اور امریکہ میں 28 فیصد افراد کو غذا اور پانی کے مسئلہ کا سامنا ہے جبکہ ساؤتھ کوریا میں محض 9 فیصد افراد نے غذا اور پانی کی سربراہی کے مسئلہ پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مختلف ممالک میں پانی کے تحفظ اور غذائی اجناس کی پیداوار میں ا ضافہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ماہرین پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے متبادل اقدامات کی تلاش میں ہیں جبکہ غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کے ذریعہ غذا کی قلت سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔بتایا جاتا ہے کہ آج بھی کئی افریقی ممالک میں غذا اور پانی کا شدید بحران ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کی جارہی ہے ۔1