تیستا سیتلواد کی درخواست ضمانت، گجرات حکومت کی جانب سے مخالفت

   

احمد آباد: گجرات حکومت نے گجرات ہائی کورٹ میں سماجی کارکن تیستا سیتلواد کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی اور 2002 کے فسادات سے متعلق ایک کیس میں ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزامات کو اجاگر کرتے ہوئے دلائل پیش کیے۔ چہارشنبہ کو استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ کانگریس لیڈر احمد پٹیل نے فسادات کیلئے گجرات حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کی سازش کے تحت سیتلواد، سنجیو بھٹ اور آر بی سری کمار کو 30 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔عدالت کی سماعت کے دوران، ریاستی استغاثہ نے گجرات کو بدنام کرنے کے مقصد سے سیتلواد کو ایک سیاستدان کا آلہ کار قرار دیا۔ سرکاری وکیل نے زور دے کر کہا کہ تیستا نے پولیس افسران سری کمار اور بھٹ کے ساتھ مل کر 2002 کے بعد گودھرا فسادات میں سازشی زاویہ کو عام کرنے اور گجرات حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کی۔استغاثہ نے مزید انکشاف کیا کہ سیتلواد نے مبینہ طور پر حریف سیاسی پارٹی کے ایک سرکردہ لیڈر سے مالی مدد حاصل کی تھی۔ انہوں نے سیتلواد کے ایک سابق قریبی ساتھی رئیس خان سمیت گواہوں کے بیانات کا حوالہ دیا، جنہوں نے سیتلواد اور پٹیل کے درمیان ایک میٹنگ کی وضاحت کی جہاں بعض افراد کے لیے سزا کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔استغاثہ نے ان گواہوں کے ریکارڈ شدہ بیانات پیش کر کے ان کے دعووں کی تائید کی جنہوں نے پٹیل کی ہدایات پر سیتلوادکو ادائیگی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔