سیریز میں مہمان ٹیم کو 2-1سے شکست ‘ تنزید حسن کومیان آف دی میاچ اور سیریز کا اعزاز
ڈھاکہ۔16؍مارچ ( ایجنسیز )پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے خلاف تیسرے ون ڈے میچ میں متنازعہ ڈی آر ایس ریویو کے معاملے پر باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے۔پی سی بی نے میچ ریفری نیامور سے رابطہ کرتے ہوئے آن فیلڈ امپائر دھرماسینا کمار کے فیصلے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ پاکستان ٹیم مینجمنٹ کا مؤقف ہے کہ بنگلہ دیش نے ایل بی ڈبلیو ریویو اس وقت لیا جب گیند کی ری پلے اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر دکھائی جا چکی تھی۔یہ واقعہ شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے کے آخری لمحات میں پیش آیا جب پاکستان کو جیت کیلئے آخری 2 گیندوں پر 12 رنز درکار تھے۔بنگلہ دیش کے بولر رشاد حسین کی گیند لیگ سائیڈ کی طرف مڑی اور امپائر نے ابتدائی طور پر اسے وائیڈ قرار دیا تاہم بنگلا دیشی کھلاڑیوں نے مختصر مشاورت کے بعد ایل بی ڈبلیو کیلئے ریویو لے لیا۔قواعد کے مطابق ریویو لینے کا فیصلہ اس سے پہلے کیا جانا چاہیے جب اسکرین پر گیند کا ری پلے دکھایا جائے تاکہ ویڈیو سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ری پلے پہلے دکھایا گیا جس سے بنگلا دیشی ٹیم کو ممکنہ طور پر معلومات حاصل ہوئیں۔مزید یہ کہ پی سی بی نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ریویو مقررہ 15 سیکنڈ کی مدت کے بعد لیا گیا تاہم براڈکاسٹ میں کوئی ٹائمر نظر نہیں آیا جس سے اس کی تصدیق ہو سکے۔جب ڈی آر ایس کے تحت ہاک آئی استعمال کیا گیا تو معلوم ہوا کہ گیند شاہین آفریدی کے بیٹ کے نچلے حصے کو چھو کر گزری تھی جس کے باعث وائیڈ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا، اس کے بعد پاکستان کو آخری ایک گیند پر 12 رنز درکار تھے۔آخری گیند پر شاہین آفریدی اسٹمپ ہو گئے اور یوں بنگلہ دیش نے 11 رنز سے میچ جیت کر سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔پی سی بی کی جانب سے ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ میچ ریفری سے کیا کارروائی چاہتے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق بورڈ کم از کم اس معاملے میں باضابطہ وضاحت یا غلطی کے اعتراف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ تنزید حسن نے تیسرے ونڈے میں شاندار 107رنز کی اننگز کھیلی ۔ سیریز میں ان کی شاندار کارکردگی کے باعث انہیں تیسرے ونڈے میں میان آف دی میاچ اور میان آف دی سیریز کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس سے قبل دوسرے ون ڈے میں سلمان علی آغا کو اس وقت رن آؤٹ قرار دیا گیا تھا جب وہ گیند واپس کرنے کیلئے کریز سے باہر آئے تھے، جس پر ان کا بنگلا دیشی آل راؤنڈر مہدی حسن سے تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔