نیویارک: وال اسٹریٹ پر پیر کوا سٹاکس میں ایک سال سے زائد عرصے کی سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، اسٹاک مارکٹ میں اس گراوٹ کی ایک وجہ یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے سے عالمی معیشت پر شدید دباو ہے اور افراطِِ زر کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔اس امکان کے پیش نظر کہ امریکہ روسی تیل کی درآمد ات پر پابندی لگاسکتا ہے، امریکی تیل کی قیمت 130 ڈالرفی بیرل تک پہنچ گئی، جس کے بعد ایس اینڈ پی انڈیکس 3 فیصدگرگیا۔ جو کہ گزشتہ سولہ سال کی اس کی سب سے بڑی گراوٹ ہے اور ساتھ ہی دنیا بھر کے بھی دن کے ابتدا ہی میں گر گئے۔ ڈاو جونز میں دو اعشاریہ چار فیصد اور نیسڈیک میں تین اعشاریہ چھ فیصد کی کمی دیکھی گئی۔سی ایف آر اے کے چیف انویسٹمنٹ اسٹرٹیجسٹ سیم اسٹووال کا کہنا ہے کہ یوکرین میں کشیدگی تک تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔تیل کی قیمتیں جتنی زیادہ ہوں گی اور جتنی زیادہ دیر تک بلند رہیں گی معاشی نمو پر اس کا اتنا ہی گہرا اثرپڑے گا۔تیل کی قیمتیں حال ہی میں اس خدشے کی وجہ سے بڑھی ہیں کہ یوکرین پر روس کے حملے سے تیل کی رسد پر پہلے سے موجود دباؤ مزید بڑھے گا۔ روس توانائی پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔امریکی ریاست کیلی فورینا کے شہر سین ڈیاگو کے ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیٹرول کی قیمتیں چار ڈالر فی گیلین سے کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔ امریکی خام تیل ایک بیرل 130ڈالر کی حد کو چھونے کے بعد 3.2فیصد اضافے کے ساتھ 119.40ڈالر پر آکر رکاہے۔ بین الااقوامی معیار کے برینٹ کروڈ تیل کی قیمت 139ڈالر کی حد کو چھونے کے بعد 4.3فیصد اضافے کے ساتھ 123.30فی بیرل پرآکر رکی ہے۔یوکرین تنازعے سے یورپ، افریقہ اور ایشیا سمیت دنیا کے چند حصوں کو خوراک کی فراہمی میں بھی خطرات درپیش ہیں جو بحیرہ اسود کے اعلاقے کے ان وسیع زرخیز کھیتوں پر انحصار کرتے ہیں جنھیں دنیا بریڈ باسکٹ کہتی ہے۔جنگ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو اس ماہ کے آخر میں 2028کے بعد پہلی بار شرح سود میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ زیادہ شرح معیشت کو سست کرتی ہیں جس سے توقع ہے کہ بلند افراط زر پر لگام لگانے میں مدد ملے گی لیکن اگر فیڈرل ریزرو سود کی شرح بہت زیادہ بڑھاتا ہے تو اس سے معیشت کے کساد بازاری میں جانے کا خطرہ بھی ہے۔