ماسکو/ریاض،2 اپریل (یواین آئی )مشرقِ وسطیٰ جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کے عالمی معیشت پر اثرات کے پیشِ نظر روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ۔خبر ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ چکی ہیں۔روس و سعودی عرب نے اتفاق کیا کہ عالمی معیشت کو بڑے بحران سے بچانے تیل کی منڈیوں کو مستحکم کرنا ناگزیر ہے ۔ آبنائے ہرمز میں جاری بحران اور ایرانی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے ہنگامی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ مزید عسکری مہم جوئی کے بجائے کشیدگی کم کرنے سفارتی ذرائع استعمال کریں۔صدر پوٹن اور شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اوپیک پلس کے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک عالمی سپلائی کو برقرار رکھنے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے سربراہان کا یہ رابطہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات اب کنٹرول سے باہر ہو رہے ہیں اور عالمی برادری پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے ۔