نیویارک ۔ یکم مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے اپنے قدیم اتحادی سعودی عرب کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے تیل کی پیداوار اور سپلائی کم نہ کی تو وہ سعودی عرب سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں گے۔امریکہ کی جانب سے سعودی عرب پر تیل کی قیمتوں کے معاملے پر روس سے جاری محاذ آرائی ختم کرنے کا مطالبہ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی رہنماؤں کو اس سلسلے میں الٹی میٹم جاری کردیا تھا۔ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ 2 اپریل کو ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کرتی، اس وقت تک وہ سعودی عرب سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے قانون سازی روکنے میں بے اختیار ہوں گے۔اس سے قبل کبھی بھی اس 75 سالہ اسٹریٹیجک اتحاد کے خاتمے کی دھمکی کے حوالے سے کوئی بھی خبر رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کا بنیادی مقصد امریکہ کی جانب سے تیل کی پیداوار کے تاریخی معاہدے کے حوالے سے دباؤ ڈالنا ہے جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی مانگ میں کمی ہوئی ہے اور اس تمام پیشرفت کوامریکہ کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے بریفنگ میں شریک امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو یہ پیغام تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان سے 10 دن قبل دیا تھا اور اس دھمکی کا محمد بن سلمان پر اس حد تک اثر ہوا تھا کہ انہوں نے کمرے میں موجود تمام افراد کو باہر نکلنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ رازداری کے ساتھ گفتگو کو جاری رکھ سکیں۔
ٹرمپ کی چین پرنئے ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی
واشنگٹن ۔ یکم مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چین پر کورونا وائرس پھیلانے کے الزامات دہراتے ہوئے نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا وائرس پر چین سے ہونے والی لفظی جنگ کے بعد مختلف جوابی اقدامات کی تیاری کررہی ہے۔امریکی صدر کی جانب سے کورونا وائرس کے معاملے پر چین کے ساتھ تلخی مزید گہری ہوگئی ہے جبکہ وائرس کے باعث ہزاروں امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لاکھوں متاثر ہوچکے ہیں۔امریکی عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین کے خلاف کئی اقدامات زیر بحث ہیں تاہم انہوں نے پہلے مرحلے میں طے کئے گئے اقدامات ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ان کا کہنا تھا کہ تجاویز ٹرمپ کی قومی سلامتی امور کی ٹیم اور خود صدر کی سطح پر طے نہیں ہوئی ہیں۔چین پر نئی معاشی پابندیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ‘چین کو روکنے اور بری طرح نشانہ کیسے بنایا جائے، اس پر بات ہورہی ہے’ جبکہ چین سے پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹ (پی پی ایز) کی درآمد کے باوجود واشنگٹن اپنے تعلقات میں سختی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ٹرمپ یہ واضح کرچکے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں چین کے کردار پر انہیں تحفظات ہیں اور چین کے ساتھ معاشی معاہدوں پر یہ بات اولین ترجیح ہوگی۔امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم نے ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت انہوں نے زیادہ برآمد کرنا تھا اور وہ کررہے ہیں لیکن اب وائرس کے بعد یہ بات ثانوی ہوگئی ہے کیونکہ وائرس کی صورت حال ناقابل قبول ہے’۔واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے چند عہدیداروں نے تجویز دی کہ امریکی قرضوں کو منسوخ کردیا جائے تاکہ کووڈ-19 کے خلاف چین کے اقدامات میں رکاوٹ پیدا کی جاسکے۔