چار مینار کے اطراف وسیع تر انتظامات کئے گئے ۔ تجارتی ادارے 8 بجے بند کروانے کا فیصلہ واپس
حیدرآباد /26 اگست ( سیاست نیوز ) حیدرآباد سٹی پولیس نے آج اس وقت راحت کی سانس کی جب گذشتہ تین دنوں کے کشیدہ حالات کے بعد جمعہ پرامن طور پر گذر گیا ۔ اس موقع پر پولیس نے سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے تھے اور تاریخی مکہ مسجد اور اس کے اطراف و اکناف علاقوں میں بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی تھی ۔ کل رات سے ہی ریاپڈایکشن فورس کی کمپنیوں کو چارمینار کے قریب تعینات کردیا گیا تھا اور اس کے علاوہ دیگر پولیس عملہ کو بھی علاقہ میں گشت کیلئے پھیلا دیا گیا تھا ۔ شہر میں حالات معمول پر واپس لوٹ آنے پر پولیس نے دونوں شہروں میں 8 بجے تک دوکانات بند کرانے کا فیصلہ واپس لے لیا اور حسب معمول 10 بجے کے بعد تجارتی ادارے اور دوکانات بند کرائے جائیں گے ۔ تاریخی مکہ مسجد میں مصلیوں کی تعداد کم تھی کیونکہ کئی نوجوانوں نے مقامی مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی ۔ پولیس نے جمعہ کے موع پر احتجاجی مظاہرے کے خدشہ کے تحت سادہ لباس میں ملبوس پولیس عملہ کو بھی پرانے شہر میں تعینات کیا تھا اور اعلی پولیس عہدیداروں کی نگرانی میں بندوبست کیا گیا تھا ۔ جمعہ کے نماز کے فوری بعد مصلیان اپنے مکانات کو پرامن طور پر واپس لوٹ گئے جس کے نتیجہ میں پولیس نے آج اطمینان کی سانس لی ۔ سیاسی لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے نوجوانوں کیلئے اپیل کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اوردوسری طرف پولیس کی پرتشدد کارروائی جس میں مکانات کے دروازے توڑ کر نوجوانوں کی گرفتاری کے ویڈیوز بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے نتیجہ میں مکہ مسجد اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں عوام کا ہجوم جمع نہیں ہوا ۔ پرامن ماحول کے پس پردہ اور ایک اہم وجہ بھی بتائی گئی ہے جس میں ملعون رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کرنا اور جیل بھیج دینے سے عوام کچھ حد تک پولیس کی کارروائی سے مطمئن دکھائی دئے ۔ خود شہریان حیدرآباد نے بھی امن و امان کی بحالی پر مسرت کا اظہار کیا اور معمولات زندگی کو جلد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ب