غزہ، 14 اگست (یو این آئی) اسرائیلی فوج نے گذشتہ تین روز کے دوران غزہ کے علاقے زیتون میں 300 سے زائد گھروں کو مسمار کیا ہے ۔غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے چہارشنبہ کے روز کہا کہ اسرائیلی افواج نے زیتون میں بھاری حملے کیے ، جن میں پانچ یا اس سے زیادہ منزلوں والی عمارتوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔انہوں نے کہا کہ استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے آس پاس کے ڈھانچے منہدم ہوگئے ، کچھ مکانات تباہ ہوگئے جبکہ رہائشی ابھی بھی اندر ہیں۔باسل نے کہا کہ انہدام بغیر پیشگی انتباہ کے کیا گیا تھا اور شدید بمباری نے امدادی ٹیموں کو زخمیوں تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔وسطی غزہ میں واقع زیتون کے علاقے کو قتل عام کے دوران بار بار اسرائیلی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ فلسطینی حکام کے مطابق، مسماری کی تازہ ترین لہر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے جاری قبضے کے منصوبے کا حصہ ہے ۔شہری دفاع کے عملے نے بتایا کہ مسلسل بمباری کی وجہ سے بہت سے مقامات تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جس سے خدشہ ہے کہ لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ زیتون کے کچھ حصوں میں پورے بلاک کو تہس نہس کردیا گیا ہے ۔مقامی صحت حکام کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کے قتل عام کا آغاز ہوا تھا جس میں اب تک 61 ہزار 700 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے نصف خواتین اور بچے ہیں۔گھروں کی تباہی نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے ، جن میں سے بہت سے لوگ خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
اسرائیل غزہ سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے:شمالی کوریا
پیانگ یانگ : 14 اگست ( ایجنسیز ) شمالی کوریا نے کہا ہے کہ ہم، اسرائیل کے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے کی مذمت کرتے ہیں”۔شمالی کوریا وزارت خارجہ کے ترجمان نے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (KCNA) کیلئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی کابینہ کا، فلسطین کی غزہ کی پّٹی پر مکمل قبضے کا، فیصلہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جنگی کابینہ نے بروز جمعہ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے غزہ پر مرحلہ وار مکمل قبضہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ترجمان نے غزہ کو فلسطینی زمین کا ناگزیر حصّہ قرار دیا اور کہا ہیکہ یہ اقدام اسرائیل کی، فلسطین کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ زمین پر قبضے کی، غنڈہ گردانہ نیت کا واضح اظہار ہے۔شمالی کوریا نے کہا ہے کہ “ہم اسرائیل کے اس مجرمانہ فعل کی سختی سے مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی کھلی خلاف ورزی ہے اور غزہ میں جاری انسانی بحران کو مزید گہرا کرنے کیلئے اْٹھایا گیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ہم اسرائیل سے پْرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں پر غیر قانونی مسلح حملے فوری طور پر بند کرے اور غزہ سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے۔