ماسکو: ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی پر تحقیق کرنے والے تین روسی سائنسدانوں کو غداری کے ’انتہائی سنگین الزامات‘ کا سامنا ہے جس کے بعد سائنس کے شعبے سے وابستہ افراد میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ وہ سائبریا کے سائنسدانوں کی جانب سے مذکورہ افراد کے دفاع میں لکھے گئے کھلے خط سے واقف ہیں تاہم یہ سکیورٹی سروسز کا معاملہ ہے۔پیر کو شائع ہونے والے خط میں اناتولی مسلوف ،الیگزینڈر شپلیوک اور ویلری زیویگینٹسیف کے ساتھیوں نے اْنہیں بے گناہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور کہا کہ استغاثہ نے روس کے سائنسی شعبے کو شدید نقصان پہنچانے کی دھمکی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم ان میں سے ہر ایک کو محب وطن اور ایک مہذب شخص کے طور پر جانتے ہیں۔جس حوالے سے تفتیشی حکام کو شْبہ ہے یہ وہ کام نہیں کر سکتے۔