تین ریاستوں میں آج سے14 دن کا مکمل لاک ڈاؤن

,

   

دہلی کے لاک ڈاون میں17 مئی تک توسیع ، میٹرو بند ، صرف گھر یا کورٹ میںشادی کی اجازت

نئی دہلی : ملک میں کورونا کے قہر میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور کئی ریاستیں کورونا باء سے بری طرح متاثر ہیں ۔اس وباء پر قابو پانے کیلئے کرناٹک ‘ راجستھان اور ٹاملناڈو نے پیر10مئی سے 14دنوں کا مکمل لاک ڈاون نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی نئی سرکار حلف لیتے ہی کورونا وائرس کے خلاف ایکشن میں آگئی ہے اور ریاست میں 14 دنوں کے مکمل لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پڑوسی ریاستوں کیرالہ اور کرناٹک میں بھی مکمل لاک ڈاون جاری ہے۔ ٹاملناڈوریاست میں 10 مئی سے 24 مئی تک مکمل لاک ڈاون لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرناٹک کے وزیر اعلی نے کورونا معاملات میں بے تحاشہ اضافہ کو دیکھتے ہوئے ریاست میں دس مئی سے 24 مئی تک کیلئے لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے۔ ریاست میں 27 اپریل سے کرفیو لگا ہوا ہے جو 12 مئی کو ختم ہونے والا تھا۔وزیر اعلی نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر نے ریاست میں بھر ڈر کا ماحول پیدا کردیا ہے اور کورونا کرفیو سے امید کے مطابق انفیکشن شرح یا اموات کی شرح کم کرنے میں مدد نہیں مل پارہی ہے۔ راجستھان میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ ادھردہلی میں لاک ڈاون کی مدت میں توسیع کرکے مزید سختی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ میٹرو ریل بند کردی گئی جبکہ ، صرف گھر یا کورٹ میں شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔دہلی حکومت نے لاک ڈاؤن کی معیاد میں 17 مئی تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی اروند کجریوال نے اتوار کے روزیہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں تاجروں ، خواتین ، نوجوانوں اور دیگرافراد سے بات چیت کی ہے سبھی کا خیال ہے کہ انفیکشن کے کیسز میں کمی آئی ہے ، لیکن وہ اس سطح پر نہیں ہیں کہ لاک ڈاؤن ہٹایا جا سکے ، بصورت دیگر ہم نے جوپایا ہیں اسے کھو دیں گے۔ لہٰذا لاک ڈاؤن میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کی جارہی ہے۔ اس مرتبہ یہ قدرے سخت ہو گا۔وزیر اعلی نے کہا کہ اس بار کے لاک ڈاؤن کے دوران میٹرو خدمات معطل رہیں گی ، لیکن لازمی خدمات جاری رہیں گی اور ہنگامی طبی اہلکاروں کو نہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے عوام نے اس بند کی حمایت کی ہے۔ حکومت نے آکسیجن بیڈ بڑھانے کے لئے اس لاک ڈاؤن کی مدت کا ا ستعمال کیا۔وزیر اعلی نے کہا کہ فی الحال آکسیجن کی دستیابی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور معمول سے کئی گنا زیادہ اس کی ضرورت ہے ، حالانکہ اب دہلی میں صورتحال بہتر ہورہی ہے اور ہمیں پہلے کی طرح ایس او ایس کالز نہیں مل رہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ 26 اپریل کوایکٹو کیسز کی شرح 35 فیصد تھی اورگذشتہ دو دن سے اس میں گراوٹ آئی ہے اور اب یہ 23 فیصد پر آگئی ہے۔اس لاک ڈاون کے دوران عوامی مقامات پر شادی پر پوری طرح سے پابند رہے گی۔ اگر کسی کو شادی کرنی ہے تو وہ گھر میں یا پھر کورٹ میں کرسکتا ہے۔ حالانکہ اس دوران 20 لوگوں سے زیادہ کی شرکت نہیں ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ شادی میں ٹینٹ ، ڈی جے اور کیٹرنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر کسی نے ان چیزوں کیلئے ایڈوانس دیدیا ہے تو انہیں پیسے لوٹانے ہوں گے یا پھر آپسی رضامندی سے آگے کی کوئی تاریخ طے کرنی ہوگی۔