نئی دہلی ۔ 21 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پیر کو سپریم کورٹ سے ایک عرضی کے ساتھ رجوع ہوا اور طلاق ثلاثہ کو فوجداری جرم قرار دینے والے قانون کے جواز کو چیلنج کیا۔ مسلم خواتین (تحفظ حقوق شادی ) ایکٹ 2019 ء طلاق بدعت کو بے اثر اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے شوہر کو سزاء دینے کی گنجائش فراہم کرتا ہے ۔ بورڈ اور کمال فاروقی نے اس قانون کے دستوری جواز پر سوال اس بنیاد پر اُٹھایا ہے کہ یہ کئی آرٹیکلس کے مغائر ہے۔