یکساں نوعیت کے مقدمات ختم کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/6اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ جہد کار اور صحافی تین مار ملنا کے خلاف ایک ہی معاملہ میں کئی ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کرے۔ جسٹس کے لکشمن نے کہا کہ کسی بھی شخص کے خلاف ایک ہی معاملہ میں مختلف ایف آئی آر کے تحت مقدمات درج کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ جہد کار نوین کمار عرف تین مار ملنا کے خلاف ریاست کے مختلف علاقوں میں مقدمات درج کرنے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ وہ شخصی طور پر تحقیقات کی نگرانی کریں اور زیر التواء کیسس، پی ٹی وارنٹس اور غیر ضمانتی وارنٹس کے بارے میں ملنا یا ان کی اہلیہ کو اطلاع دیں۔ تین مار ملنا کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ کسی مقدمہ میں ضمانت کی منظوری کے ساتھ ہی پولیس دوسرے مقدمہ میں پی ٹی وارنٹ جاری کرتے ہوئے گرفتار کررہی ہے۔ جسٹس لکشمن نے کہا کہ عوام دوست سرگرمیوں کے ذریعہ پولیس نے جو اعتماد حاصل کیا ہے اس طرح کی سرگرمیوں سے وہ متاثر ہوگا۔ جسٹس لکشمن نے کہا کہ اگر ملنا کے خلاف ایک سے زائد جرم زیر التواء ہیں اور الزامات یکساں نوعیت کے ہیں تو پولیس کو چاہیئے کہ وہ تمام معاملات کی ایک ہی وقت میں جانچ کرے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ یکساں نوعیت کے تمام مقدمات بند کئے جائیں اور ان کیسس کے سلسلہ میں دیئے گئے بیانات کو ایک کیس میں قابل قبول تصور کیا جائے۔ جسٹس لکشمن نے ریمارک کیا کہ پولیس ایک ہی طرح کے الزامات کا سامنا کرنے سے متعلق کیسس کی جانچ کیلئے ٹکنالوجی کا استعمال کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارنٹس کی واپسی کیلئے دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کے معاملہ میں بھی مجسٹریٹس کو یکساں نوعیت کے کیسس کا جائزہ لینا چاہیئے۔ واضح رہے کہ پولیس نے تین مار ملنا کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنوں میں 35 سے زائد ایف آئی آر درج کئے ہیں۔ر