ثانیہ مرزا کو ابوظہبی اوپن کے پہلے رائونڈ میں شکست

   

ابوظہبی۔ ہندوستانی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا اور ان کی امریکی ڈبلز پارٹنر بیتھانی میٹیک سینڈز ابوظہبی اوپن ڈبلیو ٹی اے 500 ٹینس ٹورنمنٹ سے باہر ہوگئیں، جو ہندوستانی اسٹارکے کیریئرکا یہاں آخری ایونٹ تھا۔ ثانیہ اور بیتھانی کو خواتین کے ڈبلز کے ابتدائی راؤنڈ میں بیلجیئم ۔ جرمن جوڑی کرسٹن فلپکنز اور لورا سیگمنڈ سے 3-6، 4-6 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ شکست چھ بارکی گرانڈ سلام فاتح ثانیہ کو اپنی سبکدوشی کے قریب ایک اور مایوسی کی سمت لے آئی ہے کیونکہ انہوں نے27 فروری کو شروع ہونے والی دبئی ٹینس چمپین شپ کے بعد اپنے ریکیٹ کو آرام د ینے کا اعلان کیا ہے، جہاں ایک اور امریکی میڈیسن کیز خواتین کے ڈبلز میں ان کی ساتھی ہوں گی۔ پچھلے مہینے، ثانیہ نے اپنے شاندارگرانڈ سلام کیریئر کو آسٹریلین اوپن میں مکسڈ ڈبلز رنر اپ کے طور پر ختم کیا ہے۔ ہندوستانی کھلاڑی اور ساتھی روہن بوپنا کو برازیلی جوڑی لوئیسا سٹیفانی اور رافیل میٹوس کے ہاتھوں 7-6(2)، 6-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جو کہ ثانیہ مرزا کے گرانڈ سلام کرئیر کا آخری مقابلہ تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ثانیہ نے اپنی پہلی گرانڈ سلام ٹرافی 2009 میں میلبورن پارک میں حاصل کی تھی ، جب انہوں نے مہیش بھوپتی کے ساتھ جوڑی بنائی اور اس نے اسی مقام پر اپنے شاندار گرانڈ سلام کیریئر کا خاتمہ کیا۔ 2009 سے 2016 تک، ثانیہ مرزا نے چھ گرانڈ سلام ڈبلز خطابات جیتے جس میں فی کس تین ویمنز ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز شامل ہیں۔ 2015 میں وہ خواتین کی ڈبلز رینکنگ میں دنیا کی نمبرایک کھلاڑی بھی بنی تھیں۔ آسٹریلین اوپن مکسڈ ڈبلز فائنل کے بعد نم آنکھوں کے ساتھ ثانیہ نے کہا میرے پیشہ ورانہ کیریئر کا سفر 2005 میں میلبورن میں شروع ہوا جب میں نے 18 سال کی عمر میں سرینا ولیمز کے ساتھ تیسرے راؤنڈ میں کھیلا۔ یہ 18 سال پہلے کافی تھا اور مجھے بار بار یہاں آنے اور یہاں کچھ خطابات جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اپنے گرانڈ سلیم کیرئیر کو ختم کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی جگہ اور کوئی نہیں ہے۔